
ابھیشیک بنرجی، تصویر آئی اے این ایس
مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع کی بیدھان نگر عدالت نے ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا رکن ابھیشیک بنرجی کو آواز کے نمونے دینے کے لیے نیا سمن جاری کیا ہے۔ عدالت نے انہیں ہدایت دی ہے کہ وہ 8 جولائی کو صبح 10 بجے عدالت میں حاضر ہوں تاکہ ریاستی محکمۂ جرائم کی تفتیش، یعنی سی آئی ڈی، عدالتی مجسٹریٹ اور فرانزک ماہرین کی موجودگی میں ان کی آواز کے نمونے حاصل کر سکے۔
یہ معاملہ ایک انتخابی ریلی میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو دھمکی دینے کے الزامات سے متعلق ہے۔ تفتیشی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان الزامات کی جانچ کے لیے آواز کے نمونے ضروری ہیں تاکہ دستیاب آڈیو مواد کا سائنسی تجزیہ کیا جا سکے۔
Published: undefined
اس سے قبل ابھیشیک بنرجی کو منگل کے روز اسی مقصد کے لیے ضلعی عدالت میں پیش ہونا تھا، تاہم وہ عدالت نہیں پہنچے کیونکہ اسی دوران کلکتہ ہائی کورٹ میں ان کی درخواست پر سماعت جاری تھی۔ انہوں نے ضلعی عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں انہیں آواز کے نمونے دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔
کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس تیرتھنکر گھوش نے منگل کو ان کی درخواست پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں پہلے ہی ایک دوسرے مقدمے میں عدالت کی جانب سے گرفتاری سمیت سخت پولیس کارروائی سے عبوری تحفظ حاصل ہے، تو صرف آواز کے نمونے دینے سے بچنے کے لیے مزید عدالتی تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی تفتیشی ایجنسی کو یہ ہدایت نہیں دے سکتی کہ وہ تفتیش کس طریقے سے انجام دے۔
Published: undefined
جسٹس تیرتھنکر گھوش نے بعد ازاں خود کو اس مقدمے کی مزید سماعت سے الگ کر لیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس تاپبرت چکروورتی کے پاس بھیج دیا گیا، جو یہ طے کریں گے کہ آئندہ سماعت کس نئی بنچ کے سامنے ہوگی۔
اس سے پہلے کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی بنچ نے ابھیشیک بنرجی کو گرفتاری اور دیگر سخت پولیس کارروائی سے عبوری راحت فراہم کی تھی۔ تاہم، اسی حکم میں عدالت نے انہیں تفتیشی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ عدالت نے سی آئی ڈی سے کہا تھا کہ اگر ابھیشیک بنرجی تفتیش میں مطلوبہ تعاون نہ کریں تو اس کی اطلاع عدالت کو دی جائے تاکہ مناسب قانونی کارروائی کی جا سکے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined