قومی خبریں

موسم پھر لینے والا ہے یو-ٹرن، دہلی-این سی آر سے پہاڑوں تک زوردار بارش کا الرٹ

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشین گوئی کے مطابق 16 سے 18 ستمبر کے درمیان دہلی-این سی آر، چنڈی گڑھ، پنجاب، ہریانہ، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں شدید بارش کا امکان ہے۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی میں تیز ہوائیں / فائل تصویر / قومی آواز / وپن</p></div>

دہلی میں تیز ہوائیں / فائل تصویر / قومی آواز / وپن

 

ستمبر ماہ کا وسط آتے آتے عام طور پر مانسون کی واپسی شروع ہو جاتی ہے، لیکن اس بار شمالی ہندوستان میں موسم نے ایک بار پھر کروٹ لینے کا اشارہ دیا ہے۔ ہندوستانی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) کی تازہ پیشین گوئی کے مطابق 16 سے 18 ستمبر کے درمیان دہلی-این سی آر، چنڈی گڑھ، پنجاب، ہریانہ، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں شدید بارش کا امکان ہے۔ کئی مقامات پر بھاری سے لے کر بہت بھاری بارش ہونے کی بھی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔ یہ صورت حال مانسون کے آخری مرحلے میں ایک نئے موسمی نظام کے فعال ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

دہلی-این سی آر میں گزشتہ کچھ دنوں سے موسم میں تھوڑا اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے۔ کبھی تیز دھوپ تو کبھی آسمان پر بادل نظر آئے ہیں، حالانکہ تیز بارش جیسی بات دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ 15 ستمبر کو بھی آسمان پر بادلوں کا ڈیرا رہ سکتا ہے۔ کچھ مقامات پر ہلکی بارش بھی ہو سکتی ہے۔ 16 اور 17 ستمبر کو صورت حال بہت بدل سکتی ہے۔ اس دوران ہریانہ، چنڈی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بہت بھاری یا بھاری بارش ہونے کا خدشہ ہے۔ مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے شہروں میں پانی جمع ہونے اور ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں بارش کا اثر زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ جموں و کشمیر اور لداخ میں 15 سے 17 ستمبر کے درمیان کافی بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں بھی ان دنوں مختلف مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے۔ پہاڑوں میں اچانک تیز بارش سے دریاؤں کی سطح آب بڑھنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکیں بند ہونے جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے پیش نظر سیاحوں اور مقامی لوگوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ یہ بارش صرف معمول کا موسمی واقعہ نہیں ہے۔ ستمبر میں مانسون کی واپسی کے دوران ایسے فعال دور غیر معمولی نہیں ہوتے، لیکن اس بار کچھ علاقوں میں بارش کی شدت زیادہ ہو سکتی ہے۔ بہت زیادہ نمی اور مقامی موسمی نظاموں کی وجہ سے درجہ حرارت میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دہلی جیسے شہروں میں صبح دھوپ اور دوپہر کے بعد بادل چھا جانا معمول بن گیا ہے۔

شدید بارش کا سب سے براہ راست اثر زراعت پر پڑتا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ میں اس وقت کئی فصلیں کھڑی ہیں۔ پانی جمع ہونے سے فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شہروں میں پانی جمع ہونے سے ٹریفک ٹھپ ہو سکتا ہے۔ دہلی-این سی آر جیسے گنجان آبادی والے علاقوں میں نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کا خدشہ رہتا ہے۔ بجلی گرنے اور تیز ہواؤں سے درخت گرنے یا تار ٹوٹنے جیسے واقعات بھی ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بارش مانسون کے آخری فعال مرحلے کا حصہ ہے۔ آئی ایم ڈی نے اشارہ دیا ہے کہ مغربی راجستھان کے کچھ حصوں سے 19 ستمبر کے آس پاس مانسون کی واپسی کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ یعنی 16 سے 18 ستمبر کی بارش اس موسم کی آخری بڑی بارشوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ موسم صاف ہونے اور درجہ حرارت بڑھنے کا امکان ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔