حوثی باغیوں کے تازہ حملوں کے بعد سعودی عرب واقع جدہ سمیت کچھ اہم شہروں میں ایمرجنسی الرٹ جاری
سعودی افسران نے خمیس مشیط، ابہا اور طائف سمیت کئی جنوبی شہروں میں ایمرجنسی الرٹ جاری کیا ہے۔ ان شہروں میں جدہ اور جیزان بھی شامل ہیں۔

حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر ایک بار پھر حملہ کر دیا ہے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنوب مغربی سعودی عرب کے خمیس مشیط میں درجنوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ اس دوران ایک فوجی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں 13 شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی خبر سامنے آئی ہے۔ حالانکہ ان حملوں کے بعد سعودی سول ڈیفنس نے بتایا کہ خطرہ اب ٹل گیا ہے۔
سعودی افسران نے خمیس مشیط، ابہا اور طائف سمیت کئی جنوبی شہروں میں ایمرجنسی الرٹ جاری کیا ہے۔ ان شہروں میں جدہ اور جیزان بھی شامل ہیں۔ بہرحال، حوثی باغیوں کے تازہ حملوں سے نمٹنے کے لیے ریاض میں اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس جاری ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں میں مسلسل تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے جواب میں سعودی عرب اور یمن کی فوج فضائی حملے کر کے جوابی کارروائی کر رہی ہے۔
اس دوران سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں واقع ینبع اور طائف شہروں میں خطرے کے سائرن بجنے کی تصدیق کی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے جدہ ایئرپورٹ پر پروازیں بھی عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب نے یمن میں فضائی حملہ بھی کیا تھا۔ اس حملے میں طیاروں کے ہینگر، رڈار سسٹم، رنوے اور گولہ بارود کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اب حوثیوں نے اپنے تازہ حملوں کو اسی کا جوابی حملہ قرار دیا ہے۔
بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع پیریم جزیرے پر قبضے کے ساتھ ساتھ حوثیوں کی اس نئی پیش قدمی نے سعودی عرب کی تیل برآمدات پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل ایک فضائی حملے کے باعث سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پہلے ہی ٹھپ ہو چکی ہے۔ سعودی عرب نے 1980 کی دہائی میں آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن بنائی تھی۔ تیل کے تاجروں کے مطابق اگر یہ پائپ لائن طویل عرصے تک بند رہتی ہے تو عالمی تیل کی سپلائی میں 4 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔
میڈیا اداروں نے ذرائع کے حوالہ سے تازہ ترین صورت حال کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سعودی اور یمنی فضائیہ نے موکا بندرگاہ کے آس پاس حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری تیز کر دی ہے۔ اس کے باوجود حوثیوں نے تقریباً پورے مغربی ساحل پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ امریکہ نے اب تک سعودی عرب کی براہ راست فوجی مداخلت کی درخواست قبول نہیں کی ہے اور صرف خفیہ معلومات کی مدد فراہم کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حوثیوں نے بھی امریکہ سے اس جنگ سے دور رہنے کو کہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
