ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے پر 100 فیصد ٹیرف کا خطرہ لاحق، امریکی ایوان نے بل میں نام شامل کرنے کی تجویز پیش کی
امریکی اراکین پارلیمنٹ نے وقت رہتے ’روس پابندی بل‘ میں ترامیم پیش کی ہیں۔ ایک ترمیم میں ہندوستان سمیت روس کے بڑے کاروباری شراکت دار ممالک کے نام شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

روس پر عائد ہونے والی نئی پابندیوں سے متعلق امریکہ میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ امریکی اراکین پارلیمنٹ نے وقت رہتے ’روس پابندی بل‘ میں ترامیم پیش کی ہیں۔ ایک ترمیم میں ہندوستان سمیت روس کے بڑے کاروباری شراکت دار ممالک کے نام شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری ترمیم میں بل سے ٹیرف لگانے کی پوری شق کو ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اب یہ معاملہ امریکی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ’ہاؤس آف ریپریزینٹیٹو‘ میں پہنچ گیا ہے۔ یہ بل، جسے ’لنڈسے گراہم سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ‘ کہا جا رہا ہے، گزشتہ مہینے سینیٹ میں کافی اکثریت سے پاس ہو چکا ہے۔ اسے 86-11 ووٹوں سے منظوری ملی تھی۔ اس بل کا مقصد روس کی قیادت اور توانائی کے شعبے پر سخت پابندی عائد کرنا ہے۔ ساتھ ہی ان جہازوں کے بیڑے پر بھی نظر رکھی جائے گی، جو روس کو تیل فروخت کرنے میں مدد کر رہے ہیں اور پابندیوں سے بچنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
امریکہ کے مطابق روس اپنے خام تیل کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال یوکرین کے خلاف جنگ میں کر رہا ہے۔ اس بل میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ اختیار دینے کی بات کہی گئی ہے کہ وہ روس سے تیل خریدنے والے بڑے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف لگا سکیں۔ حالانکہ 7 اگست کو سینیٹ سے پاس ہونے والے بل میں کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ صرف اتنا کہا گیا تھا کہ جو 5 ممالک سب سے زیادہ تیل اور گیس خریدتے ہیں، ان پر یہ اصول و ضوابط نافذ ہوں گے۔
اب ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ اسٹینی ہائر نے ایک ترمیم پیش کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بل میں چین، ہندوستان، ترکی، آذربائیجان، ہنگری، سلوواک ریپبلک، یو اے ای، سنگاپور، قزاقستان اور کرغیز ریپبلک جیسے ممالک کے نام براہ راست شامل کیے جائیں۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ گریگری میکس، جو ڈونالڈ ٹرمپ کو زیادہ ٹیرف اختیار دینے کے خلاف رہے ہیں، انہوں نے پورے سیکشن 113 کو ہٹانے کی تجویز پیش کی ہے، جو صدر کو ثانوی ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے۔ میکس کی اس تجویز کو 3 دیگر اراکین پارلیمنٹ کی حمایت بھی ملی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
