قومی خبریں

ہندوستان کو فرقہ پرست یا ہندو راشٹر نہیں بنایا جانا چاہیے: بابا رام دیو

بابا رام دیو نے ہندوستان کو فرقہ پرست اور ہندو راشٹر جگہ روحانی ملک بنائے جانے کی حمایت کی۔ ان کا یہ بیان آر ایس ایس اورBJP کے لیے کسی دھماکہ سے کم نہیں جو ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘ بنانا چاہتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

پی ایم نریندر مودی کی حمایت اور رام مندر تعمیر کا مطالبہ کرنے والے بابا رام دیو کے سُر کچھ دنوں سے بدلے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ تین ہندی بیلٹ کی ریاستوں میں بی جے پی کی شکست اور کانگریس کے برسراقتدار آنے کے بعد شاید وہ سمجھ چکے ہیں کہ اب پی ایم مودی کی کرشمائی شخصیت زوال کا شکار ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایک حیران کرنے والا بیان دیا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے ذریعہ ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘ بنانے کی کوششوں کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے بابا رام دیو نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان کو فرقہ پرست یا ہندو راشٹر بنانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں ہندوستان اور دنیا کو روحانی بنانے کی سمت میں کام کرنا چاہیے۔‘‘

Published: undefined

بابا رام دیو کا یہ بیان موجودہ سیاسی ماحول میں کافی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کو سیاسی حلقے میں مودی مخالف اور ملک کے بدلے ماحول کے پیش نظر دیا گیا بیان تصور کیا جا رہا ہے۔ دراصل انھوں نے مدورائی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران 2019 انتخابات کے تعلق سے اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ اگلے پی ایم نریندر مودی ہوں گے یا نہیں، اس سلسلے میں اپنی سوچ واضح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’موجودہ سیاسی ماحول بہت کشمکش والا ہے۔ یہ بتانا انتہائی مشکل ہے کہ اگلا پی ایم کون ہوگا۔‘‘2014 میں کھل کر مودی کی حمایت کرنے والے بابا رام دیو نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ’’میں نہ تو کسی کی حمایت کرتا ہوں اور نہ ہی کسی کی مخالفت۔‘‘ مطلب صاف ہے کہ انھوں نے دفاعی رخ اختیار کر لیا ہے اور وہ بھی یہ سمجھ چکے ہیں کہ پی ایم مودی کا دوبارہ برسراقتدار آنا مشکل ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ بابا رام دیو اس سے قبل یہ صاف کر چکے ہیں کہ وہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات بی جے پی کے لیے تشہیر نہیں کریں گے۔ وہ سیاست سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ میڈیا کے سامنے ظاہر کر چکے ہیں۔ حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام میں انھوں نے شرکت کی تھی اور بی جے پی کے لیے انتخابی تشہیر کرنے کی بات سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ خود کو سیاست سے دور کر چکے ہیں۔ اس دوران انھوں نے وزیر اعظم کی تنقید کرنے کو عوام کا بنیادی حق بھی بتایا تھا۔ مودی حکومت کی اقتصادی پالیسی کو لے کر بھی بابا رام دیو آواز اٹھا چکے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’آج روپیہ ہی نہیں گر رہا، ملک کی ساکھ بھی گر رہی ہے۔‘‘ بابا رام دیو نے مزید یہ بھی کہا تھا کہ ’’ڈالر مضبوط ہونے کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیاں ہندوستان میں پیسہ کما کر ساری دولت اپنے ملک لے جاتی ہیں۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined