
تصویر بشکریہ آئی اے این ایس
مدھیہ پردیش سے کانگریس کی راجیہ سبھا امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کر دی گئی۔ انتخابی عہدیداروں نے پایا کہ ان کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائے گئے حلف نامہ میں ایک کیس سے متعلق معلومات کو مبینہ طور پر چھپایا گیا تھا۔
Published: undefined
یہ پیش رفت بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے ریٹرننگ آفیسر کے پاس رسمی اعتراض درج کرنے کے بعد ہوئی ہے، جس میں نٹراجن کی امیدواری کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ لیڈر نے اپنے انتخابی حلف نامہ میں تلنگانہ میں جاری عدالتی کیس کے بارے میں معلومات کا انکشاف نہیں کیا ہے، جو امیدواروں کو کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت جمع کرنے کے لیے ضروری دستاویز ہے۔ پارٹی نے استدلال کیا کہ کوتاہی اہم معلومات کو چھپانے کے مترادف ہے اور اس کے نتیجے میں ان کی نامزدگی کو مسترد کر دیا جانا چاہیے۔
Published: undefined
اپنی نامزدگی مسترد ہونے کے بعد میناکشی نٹراجن نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی نے دیکھا کہ کانگریس کی پوری قانون ساز پارٹی متحد ہے اور تمام ایم ایل اے باقاعدگی سے پارٹی میٹنگوں میں شرکت کر رہے ہیں تو اسے احساس ہوا کہ ہارس ٹریڈنگ کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ کانگریس ایم ایل ایز میں کوئی تقسیم نہیں ہے، تو انہوں نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک "جعلی" حربہ اختیار کیا۔
Published: undefined
میناکشی نے کہا کہ جس معاملے کی بنیاد پر ان کی نامزدگی کو مسترد کیا گیا وہ محض قانونی نوٹس تھا۔ کسی عدالت نے اس کا نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی کوئی مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب کوئی قانونی مقدمہ ہی نہیں ہے تو چھپانے کے الزامات کیسے لگائے جا سکتے ہیں۔ ان کے بقول، اگر کوئی عدالت اس معاملے کا نوٹس لیتی یا اس کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہوتے، اور اس نے اسے چھپایا ہوتا، تو یہ الزام درست ثابت ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریٹرننگ آفیسر کے حتمی حکم میں ان کے پیش کردہ قانونی دلائل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے واضح طور پر اس فیصلے کے پیچھے سیاسی دباؤ اور محرکات کا اظہار ہوتا ہے۔ میناکشی نٹراجن نے کہا، "یہ کوئی قانونی جنگ نہیں ہے جو ہم عدالت میں ہارے ہیں، بلکہ ایک ایسی جنگ ہے جو ہم سیاسی مرضی کے سامنے ہارے ہیں۔"
Published: undefined
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جمہوریت کو دبانے کی کوشش ہے جو ووٹ چوری سے شروع ہوئی اور اب سیٹ چوری تک بڑھ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار آئینی ادارے کے طور پر نہیں بلکہ حکمراں جماعت کی فرنٹل تنظیم کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ان کے بقول یہ پورا واقعہ انتخابی عمل کی شفافیت اور جمہوری اداروں کی آزادی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined