پیپر لیک معاملے کی سماعت کے لیے راؤز ایونیو کورٹ میں خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت دی گئی تشکیل، اسپیشل جج نے لیا چارج
دہلی ہائی کورٹ نے پیپر لیک اور سرکاری امتحانات میں ناجائز ذرائع کے استعمال سے متعلق فوجداری مقدمات کی فوری سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت کا قیام عمل میں لایا ہے۔

نیٹ اور دیگر مسابقتی امتحانات میں پیپر لیک سے متعلق مقدمات کی سماعت میں اب بہتری آئے گی۔ اسی مقصد کے تحت دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں تشکیل دی گئی خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ کورٹ نمبر 408 میں قائم اس خصوصی عدالت کی خصوصی جج انو گروور بالیگا نے ہفتے کے روز اپنا عہدہ سنبھالا۔ دہلی ہائی کورٹ نے پیپر لیک اور سرکاری امتحانات میں ناجائز ذرائع کے استعمال سے متعلق فوجداری مقدمات کی فوری سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت کا قیام عمل میں لایا ہے۔ اس عدالت کا مقصد ایسے مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کرنا اور قصورواروں کے خلاف عدالتی کارروائی کو تیز کرنا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے نیٹ اور دیگر مسابقتی امتحانات میں پیپر لیک کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ طلبا کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف فوری سماعت کو یقینی بنایا جائے گا اور قصورواروں کو سخت ترین سزا دلائی جائے گی۔ اسی اعلان کے بعد عدالتی عمل کو تیز کرنے کے لیے مسلسل متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی درمیان مرکزی حکومت بھی پیپر لیک کے واقعات پر مکمل روک لگانے کے لیے قانون کو مزید سخت بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
جمعہ کے روز مرکزی کابینہ نے ’دی پبلک ایگزامینیشنز‘ (پریوینشن آف انفئیر مینز) ایکٹ، 2024' میں ترمیم سے متعلق مسودۂ بل کی منظوری دے دی۔ اس قانون کا مقصد سرکاری امتحانات کے پیپر لیک اور نقل جیسے واقعات کی مؤثر روک تھام کرنا ہے۔ پیپر لیک سے متعلق منظم جرائم کے معاملات کے لیے اس مجوزہ بل میں 10 سال تک قید اور زیادہ سے زیادہ 10 کروڑ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے، جو موجودہ قانون کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہے۔ موجودہ قانون کے تحت انفرادی مجرموں کے لیے 3 سے 5 سال تک قید کی سزا مقرر ہے، جبکہ پیپر لیک اور نقل سے متعلق منظم جرائم کے مقدمات میں 5 سے 10 سال تک قید اور کم از کم ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
