’مودی ماضی ہیں، وہ ہندوستان کے مستقبل سے نہیں لڑ سکتے‘، پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی کا سخت ردعمل
راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پورے نظام کے سربراہ، نریندر مودی کو طلبہ کے ساتھ کیے گئے سلوک اور اس ملک کے مستقبل کے ساتھ جو کچھ انہوں نے کیا، اس پر معافی مانگنی چاہیے۔‘‘

پیپر لیک اور طلبہ احتجاج کے معاملے کو لے کر کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے آج پریس کانفرنس کی، اس دوران ان کے ساتھ ’آئیسا‘ کی قومی صدر نیہا بورا سمیت دیگر طلبہ بھی موجود تھے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہمارے اور طلبہ کے 3 مطالبات ہیں، ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور حکومت کو انہیں ہر حال میں ماننا ہی ہوگا۔ راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کے سامنے پہلا مطالبہ یہ رکھا کہ ’’وزیر تعلیم، جو بدعنوان اور نااہل ہیں اور جن کا رویہ غلط ہے، انہیں ہٹایا جائے... مرکزی کابینہ میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ دھرمیندر پردھان کو وزارت تعلیم سے ہٹا کر کسی دوسری وزارت میں بھیج دیا جائے۔ ہندوستان کے طلبہ کو یہ منظور نہیں ہے۔ یہ کسی کو بھی منظور نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پردھان اس بدعنوانی اور ہندوستان کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے، اس کی نشانی ہیں۔ وہ ملک کی سب سے قیمتی چیز یعنی ہمارے طلبہ اور ان کے مستقبل کی بربادی کی علامت ہیں۔ اس لیے، دھرمیندر پردھان کو ادھر ادھر کرنے، پیچھے یا آگے کرنے جیسی کوئی بات نہیں ہوگی۔ دھرمیندر پردھان کو ہٹانا ہی ہوگا۔‘‘
راہل گاندھی نے مرکزی حکومت سے دوسرا مطالبہ یہ کیا کہ ’’طلبہ کے ساتھ مار پیٹ کرنے والوں کو سزا ملنی ہی چاہیے۔ خواہ وہ اس کا انتظام کرنے والے ہوں یا اس کارروائی پر عمل درآمد کرنے والے، ان سب کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘ تیسرا اور اہم مطالبہ یہ کیا کہ ’’اس پوری کارروائی کے پس پردہ موجود پورے نظام کے سربراہ، نریندر مودی کو طلبہ کے ساتھ کیے گئے سلوک اور اس ملک کے مستقبل کے ساتھ جو کچھ انہوں نے کیا، اس پر معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ’’یہ وہی نظام ہے جو ان پر (طلبہ اور نوجوانوں پر) حملہ کر رہا ہے۔ میں نے اندر ان سے یہی بات کہی۔ میں نے کہا، فکر مت کرو۔ گھبراؤ مت۔ ہندوستانی حکومت کی پوری طاقت، حکومت کا کوئی بھی فرد آپ کو وہاں سے (احتجاج کی جگہ سے) نہیں ہٹا سکتا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کو جو کرنا ہے، کرنے دیں۔ اگر وہ روکنا چاہتے ہیں، دھمکانا چاہتے ہیں، تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں... ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے... وہ ہندوستان کے مستقبل ہیں۔ کوئی ان سے لڑ نہیں سکتا۔ نریندر مودی ہندوستان کے ماضی ہیں، ماضی کبھی مستقبل سے نہیں لڑ سکتا۔‘‘
دوسری طرف ’آئیسا‘ کی قومی صدر نیہا بورا نے کہا کہ ’’آج راہل گاندھی کے ساتھ تعلیمی نظام کے حوالے سے انتہائی بامعنی گفتگو ہوئی۔ ملک میں تعلیمی نظام پر سنجیدہ بحث نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، جبکہ پورے تعلیمی ڈھانچے کو اس طرح متاثر کیا گیا ہے کہ نوجوانوں کی تعلیم، سیکھنے کی صلاحیت اور کچھ نیا جاننے کی چاہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘ اس دوران انہوں نے بتایا کہ ’’بہار بند سے پہلے بڑی تعداد میں طلبہ کارکنان کو بہار پولیس نے گرفتار کیا، جس کا معاملہ بھی راہل گاندھی کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔‘‘
نیہا بورا نے مزید کہا کہ ’’راہل گاندھی کی طرف سے رکھے گئے تینوں مطالبات ملک کے نوجوانوں اور طلبہ کے حقیقی مطالبات ہیں۔ ا مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزارت تعلیم کو تبدیل کرنا یا پیپر لیک پر نیا قانون لانا بھی اس مطالبے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’20 جولائی کو طلبہ کے خلاف ہونے والے تشدد کے لیے جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔ اس معاملے میں پولیس کمشنر اور مرکزی وزیر داخلہ کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ اس معاملے پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ یا مفاہمت قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘
