ممبئی میں عمارت منہدم ہونے کے بعد ریسکیو آپریشن کا منظر / آئی اے این ایس
ممبئی کے ویرار علاقے میں رمابائی اپارٹمنٹ کے انہدام کے بعد تحقیقات میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ممبئی کرائم برانچ یونٹ 3 نے اس معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں بلڈر کے ساتھ زمین مالکان کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ یہ حادثہ 26 اگست کی رات کو پیش آیا تھا، جب عمارت اچانک منہدم ہو گئی تھی۔ اس حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے جبکہ کم از کم 9 افراد شدید طور پر زخمی ہیں۔
Published: undefined
ابتدائی طور پر پولیس نے بلڈر نیتل گوپیناتھ سانے (48 سال) کو حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے معاملہ کرائم برانچ کے حوالے کیا گیا۔ کرائم برانچ نے مزید چار افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں پلاٹ مالک پرشورام دلوی کی دو بیٹیاں، شبھنگی اور سندھیا پاٹل، کے علاوہ سورندر اور منگیش پاٹل شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ تمام افراد غیر قانونی تعمیرات اور منصوبے سے براہِ راست جڑے ہوئے تھے۔ گرفتار ملزمین کو ہفتہ کے روز ویرار کی سیشن عدالت میں پیش کیے جانے کی تیاری ہے۔
پولیس کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ 2008 اور 2009 کے درمیان زمین مالک پرشورام دلوی اور بلڈر نیتل سانے کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت رمابائی اپارٹمنٹ تعمیر کیا گیا۔ تاہم اس تعمیر میں متعدد بے ضابطگیاں اور سنگین لاپروائیاں برتی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق بغیر کسی بلدیہ کی اجازت کے 54 فلیٹ اور 4 دکانیں تعمیر کی گئیں۔
Published: undefined
مزید برآں، ناقص اور کم معیار کے تعمیراتی سامان کے استعمال کی وجہ سے عمارت کی مضبوطی بری طرح متاثر ہوئی، جس کا نتیجہ اس سانحے کی صورت میں نکلا۔
حادثے کی رات تقریباً 12 بج کر 10 منٹ پر چار منزلہ عمارت دھڑام سے زمین بوس ہوگئی۔ اس دوران ریسکیو ٹیم نے 26 افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا، مگر 17 افراد ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں کچھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مرنے والوں کے اہل خانہ کے لئے معاوضے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
Published: undefined
دوسری جانب و سئی ویرار میونسپل کارپوریشن کے اسسٹنٹ کمشنر گلِسن گھونسلیوس نے حادثے کے بعد باضابطہ شکایت درج کرائی تھی۔ اسی بنیاد پر پولیس نے نیتل سانے اور دیگر افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 105 کے تحت کیس درج کیا ہے۔ ساتھ ہی مہاراشٹر ریجنل اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایکٹ کی تین مختلف دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔
فی الحال اس معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور پولیس مزید شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر نگرانی کی جاتی تو اتنی بڑی انسانی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ویرار بلکہ پورے ممبئی میں غیر قانونی اور ناقص تعمیرات کے خطرناک رجحان پر سنگین سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز