
سوشل میڈیا
مشرقی دہلی کے ایک پارک سے سامنے آئے ویڈیو نے مقامی سیاست، عوامی اخلاقیات اور شہری آزادی کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بی جے پی کی خاتون کونسلر کی طرف سے رات میں کی گئی کارروائی سوشل میڈیا پر طوفان مچانے کے بعد اب سیاسی گلیاروں تک پہنچ گئی ہے۔ مشرقی دہلی کے کوہلی وارڈ سے بی جے پی کونسلر منیش ڈیڑھا ایک وائرل ویڈیو میں اپنے حامیوں کے ساتھ پارک میں سرگرم رول میں نطرآرہی ہیں۔ ویڈیو میں پولیس کی موجودگی نظرنہیں آ رہی ہے اور کونسلرخود ہی وہاں بیٹھے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے سوال اور جواب کرتی نظرآرہی ہیں۔
Published: undefined
ویڈیو کے مطابق کونسلرایک بنچ پر بیٹھے جوڑے کے پاس پہنچتی ہیں اوران سے پوچھتی ہیں کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔ وہ لڑکے سے شناختی کارڈ دکھانے کو کہتی ہیں اور یہ جاننے کے بعد کہ دونوں اشوک نگر کے رہنے والے ہیں، ان کے وہاں ہونے پرسوال اٹھاتی ہیں۔
Published: undefined
ویڈیومیں کونسلر کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا ہے کہ اگر پارک میں کوئی قابل اعتراض حالت پائی گئی تو موقع پر ہی کارروائی کی جائے گی۔ جب لڑکے اور لڑکی خود کو 18 سال کا بتاتے ہیں تو اس پر بھی سخت تبصرے کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد دیگر جوڑوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا تی نظر آرہی ہے۔ تنازعہ بڑھنے پر منیش ڈیڑھا نے کہا کہ وہ کسی اختلاقی پہتے داری کے ارادے سے نہیں بلکہ معائنہ کے لیے پارک گئی تھیں۔
Published: undefined
کونسلر کے مطابق مقامی باشندوں نے شکایت کی تھی کہ پارک میں نشہ خوری ہوتی ہے اور رات گئے تک بھیڑ رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں روشنی کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کے خدشات تھے۔ کونسلر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پارک میں موجود کچھ لڑکیاں رات گئے گھر سے باہر تھیں۔ انہوں نے ایک سرپرست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی کئی دنوں سے لاپتہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کےساتھ بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن عوامی مقامات پر ’مر یادہ‘ضروری ہے۔
Published: undefined
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مشرقی دہلی میں اس طرح کا تنازعہ سامنے آیا ہے۔ پچھلے مہینے پٹپر گنج علاقے میں ایک اور بی جے پی کونسلر کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں انہوں نے افریقی نژاد فٹ بال کوچ کو اس کی زبان کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس نے ایک ماہ کے اندر ہندی نہیں سیکھی تو اس کے پارک میں داخل ہونے پر روک لگا دی جائے گی۔ ان واقعات نے نگرنگم سطح پرعوامی نمائندوں کے کردار کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
Published: undefined
یہ معاملہ اب سوشل میڈیا پر بڑی بحث کا موضوع بن گیا ہے کہ کیا منتخب نمائندوں کو عوامی مقامات پر شہریوں کی ذاتی آزادی میں مداخلت کرنے کا حق ہے؟ جہاں ایک طرف کونسلرسیکورٹی اورعوامی شکایات کا حوالہ دیتی ہیں، وہیں دوسری طرف یہ ویڈیو اخلاقی پولیسنگ اور نوجوانوں کی رازداری کے حق پرسوال کھڑے کرتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined