قومی خبریں

تمل ناڈو میں وجے کی حکومت سازی کا راستہ صاف، لیفٹ جماعتوں کی حمایت حاصل

ٹی وی کے کے سربراہ وجے کو کانگریس، وی سی کے، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) کی حمایت ملنے کے بعد حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل ہو گئی ہے اور اب وہ حکومت سازی کے لیے پھر سے دعویٰ کر سکتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>وجے، ویڈیو گریب</p></div>

وجے، ویڈیو گریب

 

چنئی: تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کو لے کر سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اداکار سے سیاستداں بننے والے وجے کی جماعت تملگا ویتری کزگم کو اب کانگریس کے ساتھ ساتھ وِدُتھلئی چرُتھئیگل کچی (وی سی کے)، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد وجے کے لیے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ تقریباً صاف مانا جا رہا ہے۔

Published: undefined

تملگا ویتری کزگم نے اس اسمبلی انتخاب میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 234 میں سے 108 نشستیں جیت لی تھیں۔ یہ تمل ناڈو کی سیاست میں کسی نئی جماعت کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے 1977 میں ایم جی رام چندرن کی قیادت والی اے آئی اے ڈی ایم کے نے 130 نشستیں جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ تاہم ووٹ شیئر کے معاملے میں وجے کی جماعت نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے اُس وقت کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

Published: undefined

انتخابی نتائج کے بعد وجے نے دو مرتبہ گورنر راجندر آرلیکر سے ملاقات کرکے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا، لیکن ان سے کہا گیا تھا کہ ان کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے، لہذا انہیں مزید حمایت حاصل کرنی چاہئے۔ غور طلب ہے کہ اسمبلی میں اکثریت کے لیے 118 ارکان کی ضرورت ہے۔

وجے کی جماعت کے 108 منتخب اراکین میں خود وجے بھی دو نشستوں سے کامیاب ہوئے تھے۔ چونکہ انہیں ایک نشست چھوڑنی ہوگی، اس لیے ان کی جماعت کے ارکان کی تعداد 107 رہ جاتی ہے۔ کانگریس کے پانچ اراکین کی حمایت کے بعد یہ تعداد 112 تک پہنچ گئی تھی۔ اب سی پی آئی کے دو، سی پی آئی (ایم) کے دو اور وی سی کے کے دو اراکین کی حمایت ملنے کے بعد وجے کے پاس 119 اراکین کی حمایت ہوگئی ہے، جو حکومت سازی کے لیے کافی مانی جا رہی ہے۔

Published: undefined

سیاسی مبصرین کے مطابق تملگا ویتری کژگم نے نہ صرف ریاست کی روایتی دراوڑی سیاست میں اپنی مضبوط جگہ بنائی بلکہ کئی حلقوں میں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے دونوں کے ووٹ بینک کو متاثر کیا۔ تجزیوں کے مطابق وجے کی جماعت نے 91 نشستوں پر دراوڑی جماعتوں کو سخت نقصان پہنچایا، جبکہ 51 نشستوں پر اس نے جیت کے فرق سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔

اگر وجے حکومت بنانے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ 1967 کے بعد تمل ناڈو میں پہلی بار ہوگا کہ ریاست میں نہ ڈی ایم کے کی حکومت ہوگی اور نہ اے آئی اے ڈی ایم کے کی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined