
نینی تال: اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے دنیا میں مشہور کاربیٹ پارک سے ملحق کوریڈوروں میں ہاتھیوں پر کنٹرول کرنے کے لئے محکمہ جنگلات کی طرف سے لال مرچ کے استعمال پر فوری طورپر روک لگا دی ہے۔
عدالت نے کہاکہ کوریڈوروں پر انسانی زندگی کے بجائے جنگلی جانوروں خاص طورپر ہاتھیوں کا پہلا حق ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کوریڈوروں پر ہوئے ناجائزہ قبضوں اور شاہراہوں پر گاڑیوں پر کنٹرول کرنے کے معاملہ میں مرکزی ماحولیات وزارت اور اتراکھنڈ کے چیف وائلڈ لائف گارجین اور چیف کنزرویٹیو آف جنگلات سے دو ہفتہ میں جواب پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
چیف جسٹس رمیش رنگناتھن اور جج آلوک کمار ورما کی ڈبل بنچ نے یہ ہدایت دہلی کی انڈیپنڈنٹ میڈیکل انی شیٹیو سوسائٹی کی طرف سے دائر مفائد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے منگل کو جاری کی۔ عرضی گزار کے وکیل دشینت مینالی نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کی طرف سے آج عدالت میں جواب پیش کیا گیا۔
محکمہ جنگلات نے مانا کہ کاربیٹ پارک سے ملحق تین ہاتھی کوریڈیوں پر ہاتھیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے اسکے ذریعہ مئی 2019سے مرچ اور پٹاخوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ مینالی نے کہا کہ چیف جسٹس کی قیادت والی بنچ نے اسے سنگینی سے لیا اور محکمہ جنگلات کے ذریعہ مرچ کے استعمال پر فوری اثرات پابندی لگا دی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 15 Oct 2019, 11:20 PM IST