
نریندر مودی اور مسعود پیزشکیان
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ہفتہ کو ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ روابط کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت بالخصوص ایران کے خلاف امریکہ اور ایران کے فوجی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر پیزشکیان نے جاری حملوں، غیر قانونی اقدامات اور جرائم کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے بغیر کسی معقول وجہ، منطق یا قانونی بنیاد کے جاری جوہری مذاکرات کے دوران ہی ایران پر فوجی حملے شروع کردیئے تھے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں انقلاب اسلامی کے سپریم لیڈر، سینئرفوجی کمانڈر اور کئی بے قصور عام شہری جاں بحق ہوگئے جن میں معصوم اسکولی بچے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں نے ایران کے بنیادی ڈھانچوں کو بھی کافی نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ نے پڑوسی ممالک میں اپنے فوجی اڈوں سے مناب کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا جس میں 168 معصوم بچے مارے گئے۔
Published: undefined
پیزشکیان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کی نگرانی اور تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے عالمی رہنماؤں کے ساتھ فون اور آمنے سامنے بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے تاکہ اس کے پُرامن جوہری پروگرام کی نگرانی اور تصدیق کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے مغربی ایشیائایران اور اسرائیل جنگی ممالک کے ساتھ علاقائی سلامتی کے فریم ورک کے قیام کی تجویز بھی پیش کی، جس کا مقصد بیرونی مداخلت کے بغیر تعاون کے ذریعے امن و استحکام قائم کرنا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ اور تنازعات کے خاتمے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل فوری طور پر اپنی جارحیت بند کریں اور اس بات کی ضمانت دیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔ برکس کی ہندوستان کے پاس موجود صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے پیزشکیان نے اس گروپ سے اپیل کی کہ وہ ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت کو روکنے اور علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے تحفظ کے لیے آزادانہ کردار ادا کرے۔
Published: undefined
اس گفتگو میں مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی خوراک اور توانائی کی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی زرعی برآمدات کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی مسلسل سلامتی کو یقینی بنانے اور خلیج فارس میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم مودی نے مزید زور دیا کہ جنگ کا راستہ منتخب کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے، اس لیے تمام فریقوں کو جلد از جلد امن کی طرف بڑھنا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined