ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ نہیں ہے: ترکی
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے اور کسی رکن پر حملہ صرف اس صورت میں ایک مشترکہ خطرہ سمجھا جائے گا جب وہ ملک مدد کے لیے کہے گا۔

ترکی کے تازہ بیان نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ اس کے نئے دفاعی معاہدے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔
انہوں نے اس معاہدے کو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دیا کہ ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان سعودی عرب کے لیے ایک جھٹکے کے طور پر سامنے آیا، کیونکہ ایران نے حالیہ جنگ میں اس کے خلاف متعدد میزائل داغے ہیں۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ وہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردغان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کو سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ میں معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے مطابق ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا لیکن بعد میں ترکی کے وزیر نےاس معاہدے کے برعکس جواب دیا۔
"مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ" تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب اور جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی کو بھی اکٹھا کرتا ہے، جس کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج اور تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت ہے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس معاہدے سے سعودی عرب کو ایران میں جنگ سے لاحق خطرات کے پیش نظر مدد ملے گی۔ تین سنی مسلم ممالک کے اس اتحاد کو ’’اسلامی نیٹو‘‘ بھی کہا جا رہا ہے۔
لیکن اب ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ تینوں ممالک کسی مخصوص ریاست کو اس وقت تک دشمن نہیں سمجھتے جب تک کہ وہ ان کے خلاف معاندانہ کارروائی نہ کریں۔ فیدان نے کہا، "ہمارے پاس تحریری طور پر ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس پر ہم نے دستخط کیے ہوں جو مشترکہ خطرے کی وضاحت کرتا ہو۔ کوئی بھی ملک جو ہم پر حملہ نہیں کرتا وہ ہمارے لیے ہدف نہیں ہے۔ ترکی کے وزیر نے باہمی دفاع سے متعلق معاہدے کی شق کو تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت قرار دیا جس کے تحت 32 ارکان میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
پھر کب ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا؟ فیدان نے وضاحت کی کہ ایک رکن کو باضابطہ طور پر مدد کی درخواست کرنی چاہیے، اور دیگر دو ممالک کی مدد انٹیلی جنس شیئرنگ سے لے کر لاجسٹک سپورٹ تک، یا خطرے کے لحاظ سے فوجی دستوں کی تعیناتی تک ہوسکتی ہے۔ فیدان نے وضاحت کی کہ یہ کثیر الجہتی معاملات ہیں جو خطرے کے پیمانے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ترکی کے وزیر نے کہا کہ دیگر ممالک نے بھی معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تاہم انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں مصر کی شمولیت متوقع ہے۔
