
اڈانی گروپ / Getty Images
امریکہ میں اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کو ایک اہم قانونی جھٹکا اس وقت لگا جب وفاقی عدالت نے ان کے خلاف دائر فوجداری مقدمے کو فوری طور پر خارج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے امریکی محکمۂ انصاف سے مقدمہ واپس لینے کی وجوہات کی تفصیلی وضاحت طلب کر لی۔ عدالت نے کہا ہے کہ صرف مختصر بیان کی بنیاد پر مقدمہ ختم نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے واضح قانونی بنیاد پیش کرنا ضروری ہے۔
Published: undefined
نیو یارک کے مشرقی ضلع کی وفاقی عدالت کے جج نکولس گرافیس نے اپنے حکم میں کہا کہ محکمۂ انصاف کی جانب سے پیش کیا گیا مؤقف نہایت مختصر اور غیر تسلی بخش ہے، جس کی بنیاد پر عدالت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتی۔ عدالت نے محکمۂ انصاف کو ہدایت دی ہے کہ وہ 13 جولائی تک تحریری طور پر یہ واضح کرے کہ مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیوں کیا گیا۔
گزشتہ ماہ امریکی محکمۂ انصاف نے اعلان کیا تھا کہ وہ گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف جاری فوجداری کارروائی کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتا۔ اس کے بعد اڈانی کی قانونی ٹیم نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مقدمہ باضابطہ طور پر خارج کر دیا جائے، تاہم عدالت نے اس درخواست پر فوری فیصلہ دینے سے انکار کر دیا۔
Published: undefined
گوتم اڈانی کے خلاف 2024 میں دائر کیے گئے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اڈانی گروپ کی ایک ذیلی کمپنی نے ہندوستان میں شمسی توانائی کے منصوبوں کی منظوری حاصل کرنے کے لیے سرکاری حکام کو رشوت دینے کی مبینہ سازش کی۔ استغاثہ کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ کمپنی نے امریکی سرمایہ کاروں کو بدعنوانی کے انسداد سے متعلق اپنی پالیسیوں اور کاروباری طریقۂ کار کے بارے میں گمراہ کن یقین دہانیاں فراہم کیں۔
ادھر امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے فیصلے کے بعد مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا کہ اگر مقدمہ ختم کر دیا جائے تو اڈانی گروپ امریکہ میں تقریباً دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کرے گا۔ تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
Published: undefined
یاد رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اس مقدمے پر مزید وقت اور وسائل صرف نہیں کرنا چاہتا، لیکن عدالت نے واضح کیا ہے کہ ایسے اہم مقدمات میں صرف ایک مختصر بیان کافی نہیں ہوتا۔ عدالت نے کہا کہ مقدمہ واپس لینے کی قانونی وجوہات اور متعلقہ حقائق مکمل طور پر پیش کیے جائیں تاکہ عدالتی کارروائی شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔
اب اس مقدمے کی آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکی محکمۂ انصاف 13 جولائی تک عدالت کے سامنے کیا تفصیلی مؤقف پیش کرتا ہے اور آیا عدالت اس وضاحت سے مطمئن ہوتی ہے یا نہیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined