
وزیر اعلیٰ کرناٹک سدارمیا / آئی اے این ایس
کرناٹک حکومت نے ماہِ رمضان میں ریاست کے اردو اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تبدیلی اردو میڈیم کے پرائمری، اپر پرائمری اور ہائی اسکولوں میں نافذ ہوں گی۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے پیر (2 فروری) کو کہا کہ حکومت کے اس قدم کو اقلیتوں کی خوشنودی کہنا درست نہیں ہے۔ حکومت نے ایک سرکلر جاری کر کہا کہ یہ فیصلہ تمام سرکاری، امداد یافتہ اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں پر نافذ ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ موجودہ احکامات اور کرناٹک اسٹیٹ پرائمری اسکول ایجوکیشن ایسوسی ایشن (آر)، بنگلورو کی جانب سے پیش کردہ نمائندگی کا جائزہ لینے کے بعد لیا گیا ہے۔
Published: undefined
پیر کو عوامی ہوئے 30 جنوری کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ’’اس سے قبل 31 اکتوبو 2002 کو جاری ایک مستقل حکم کے ذریعہ سے ریاست میں اردو میڈیم کے لوئر پرائمری، اپر پرائمری اور ہائی اسکولوں کو صرف صبح 8 بجے سے دوپہر 12:45 بجے تک کلاس جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، اور مذکورہ مستقل ہدایات کے قواعد کے مطابق جائزہ لینے اور ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘
Published: undefined
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے 8 مارچ 2023 کے اپنے اس حکم کا حوالہ دیا، جس کے تحت ریاستی نصاب پر عمل کرنے والے اسکولوں کے لیے تعلیمی سال 24-2023 کے لے ایک سرگرمی پلان ایکشن نافذ کیا گیا تھا۔ اس سرکلر کے مطابق روزانہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے اسکول کے باقاعدہ اوقات صبح 10 بجے سے شام 4:20 بجے تک مقرر کیے گئے تھے۔ حالانکہ رمضان اور اردو میڈیم اداروں کے لیے طویل عرصے سے چلے آ رہے خصوصی التزامات کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت نے ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے گزشتہ ماہ 17 جنوری پیش کردہ نمائندگی کے بعد معاملے کا از سر نو جائزہ لیا۔
Published: undefined
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ’’تعلیمی سال 26-2025 میں ریاست کے تمام سرکاری، امداد یافتہ، غیر امدادی ہائی اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی ماہ رمضان کی شروعاتی تاریخ سے 20 مارچ تک نافذ رہے گی۔‘‘ حکومت کے اس قدم کو مناسب قرار دیتے ہوئے ریاستی وزیر داخلہ جی پرمیشور نے کہا کہ ان کا مقصد اردو میڈیم کے بچوں کو دیگر بچوں کے برابر لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی درج فہرست ذات/درج فہرست قبائل کی طرح ہر لحاظ سے آپ کے برابر نہیں ہے تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ آئین میں شروع سے ہی درج فہرست ذات/درج فہرست قبال کو ریزرویشن کیوں دیا گیا تھا؟ آپ کو کیا لگتا ہے کہ آئین مین پسماندہ طبقات کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہزاروں سالوں سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ کیا آپ نہیں چاہتے کہ یہ لوگ دوسروں کے برابر ہوں اور ایک مساوی معاشرہ تشکیل دیں؟
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined