
انا ہزارے، تصویر آئی اے این ایس
سماجی کارکن کے طور پر مشہور انّا ہزارے طویل خاموشی کے بعد ایک بار پھر تحریک کے ذریعہ ’انقلاب‘ لانے کا نعرہ بلند کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس بار انہوں نے اپنی آبائی ریاست مہاراشٹر کو منتخب کیا ہے جہاں وہ ریاستی حکومت کے ذریعہ حق اطلاعات کے قوانین میں کی گئی ترامیم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہزارے نے ترامیم کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر واہس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونے پر وہ 5 جولائی سے بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔
Published: undefined
انا ہزارے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو لکھے ایک خط میں دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر حق اطلاعات قانون 2026، آر ٹی آئی ایکٹ کی دھار کو کند کر دے گا اور شہریوں کو اطلاعات سے دور رکھے گا۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے 12 جون کو قانون میں کی گئی ترامیم آر ٹی آئی ایکٹ، 2005 کی روح کے خلاف ہیں اور شفافیت کو کمزور کرتی ہیں۔ ہزارے نے فیس میں اضافہ کئے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کوئی مناسب وجہ یا مالیاتی تجزیہ فراہم نہیں کیا گیا۔
Published: undefined
وزیر اعلیٰ کو لکھے خط میں انا ہزارے نے کہا کہ آر ٹی آئی کوئی ریونیو کمانے کا قانون نہیں ہے۔ اگر 20 سال بعد فیس بڑھائی جاتی ہے تو اطلاع دینے سے منع کرنے والے افسران پر جرمانہ بھی بڑھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے آئی ڈی پروف کو ضروری بنانے کی مخالفت کی اور دلیل دی کہ آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ (2)6 درخواست دہندہ کو اپنی تفصیلات یا معلومات طلب کرنے کی وجوہات کا انکشاف کرنے کی ضرورت نہیں بتاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں وہسل بلوور اور کارکنان کے لیے خطرہ ہے۔
Published: undefined
ہزارے نے ’ایک سبجیکٹ، ایک ایپلی کیشن‘ ضابطے کی بھی تنقید کی۔ اسے غیر ضروری اور بوجھل قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ بار بار آنے والی درخواستوں کو فوری بند کرنے کے اصول سے پوری یا تازہ ترین معلومات تک رسائی بند ہوجائے گی۔ انا ہزارے نے کہا کہ اس ’عمل کو زیادہ تکنیکی، مہنگا اور انتظامیہ پر مرکوز‘ کرنے سے شفافیت میں کمی آئے گی۔
Published: undefined
انہوں نے درخواست دہندہ سے معلومات مانگنے کا مقصد پوچھنا، اگر درخواست دہندہ غیر حاضر رہتا ہے تو اپیل خارج کرنا، درخواست دہندہ کی موت پر کیس خود بخود بند کرنا اور انفارمیشن کمیشن کے سامنے سماعت کے دوران قانونی مدد پر روک لگانے جیسے معاملوں پر اعتراض کیا۔ انا ہزارے نے مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اگر 12 جون کی ترمیم فوری طور پر واپس نہیں لی گئیں تو میں 5 جولائی کو یادو بابا مندر، رالیگن سدھی میں اپنی ہڑتال شروع کروں گا، خواہ اس میں میری جان چلی جائے۔‘‘
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined