دہلی: عآپ اراکین اسمبلی نے سائیکل گھوٹالے پر کیا احتجاج، نعرہ والی ٹی شرٹ پہن کر پہنچے اسمبلی، مارشل نے 6 کو کیا باہر

عآپ کا الزام ہے کہ 4000 روپے کی سائیکل پر اسٹیکر لگا کر اسے 7000 روپے میں خریدی گئی۔ دہلی حکومت کے ذریعہ ایک لاکھ 30 ہزار سائیکل کی 90 کروڑ روپے میں خریداری کے دوران 36 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i

مانسون اجلاس کے دوسرے دن دہلی اسمبلی میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ عام آدمی پارٹی (عآپ) کے اراکین اسمبلی وزیر آشیش سود کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والا نعرہ لکھے ٹی شرٹ پہن کر سائیکل سے اسمبلی پہنچے۔ بی جے پی نے عآپ اراکین اسمبلی کی اس حرکت پر سخت اعتراض کیا، جس کے بعد اسپیکر نے اراکین اسمبلی کو ایوان سے باہر کر دیا۔ دراصل عآپ کا الزام ہے کہ 4000 روپے کی سائیکل پر اسٹیکر لگا کر 7000 روپے میں خریدی گئی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ دہلی حکومت کے ذریعہ ایک لاکھ 30 ہزار سائیکل کی 90 کروڑ روپے میں خریداری کے دوران 36 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ اس کو لے کر عآپ کے اراکین اسمبلی وزیر آشیش سود کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی سنجیو جھا، جرنیل سنگھ، کلدیپ کمار، اجے، پریم کمار اور سوم دت کو مارشل آؤٹ کیا۔ یہ اراکین اسمبلی آشیش سود کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والی ٹی شرٹ پہن کر ایوان میں پہنچے تھے۔ بی جے پی رکن اسمبلی اور دہلی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر موہن سنگھ بشٹ نے اسپیکر وجیندر گپتا سے مطالبہ کیا عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی ایوان میں نعرہ والی ٹی شرٹ پہن کر آئے ہیں، انہیں ایوان سے باہر نکالا جائے۔


اسپیکر وجیندر گپتا نے عآپ اراکین اسمبلی کو کہا کہ نعرہ لکھی ٹی شرٹ پہن کر ایوان میں آنا قوانین کے خلاف ہے، اس کے لیے سخت کارروائی ہو سکتی ہے۔ وجیندر گپتا نے اراکین اسمبلی کو ایوان سے باہر جانے کے لیے کہا لیکن ان لوگوں نے اسپیکر کی بات نہیں مانی، جس کے بعد انہیں مارشل آؤٹ کیا گیا۔ اسپیکر نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی لیڈر آف اپوزیشن ایوان میں نہیں آئی ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آپ کا لیڈر کون ہے؟ ہم لیڈر آف اپوزیشن یا گوپال رائے کو نامزد کریں گے۔ اس کے بعد عآپ اراکین اسمبلی نے کہا کہ ہم صرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں، آپ ہمیں یہ مسئلہ اٹھانے کا موقع دیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔