قومی خبریں

یوپی انتخابات: کھلے میں وی وی پیٹ پرچیاں برآمد ہونے سنسنی، بی ایس پی امیدوار کا دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ

یوپی کے چندولی میں کھلے میں وی وی پی اے ٹی کی پرچیاں برآمد ہونے کے بعد ہلچل مچ گئی ہے، وہیں بی ایس پی امیدوار امت یادو نے سید راجہ اسمبلی سیٹ پر دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر بشکریہ آج تک
تصویر بشکریہ آج تک 

چندولی: اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو چکی ہے اور تمام امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہے۔ کل یعنی 10 مارچ کو ووٹوں کی گنتی ہونی ہے لیکن گنتی سے قبل ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور کانگریس نے ای وی ایم کے حوالہ سے سوال اٹھانے شروع کر دیئے ہیں۔

Published: undefined

آج تک کی رپورٹ کے مطابق ای وی ایم پر سوالات کے درمیان مشرقی اتر پردیش کے چندولی میں کھلے میں وی وی پیٹ کی پرچیاں برآمد ہونے کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔ چندولی ضلع کی سید راجہ اسمبلی سیٹ سے بی ایس پی امیدوار امت یادو نے پورے واقعہ کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سیٹ پر دوبارہ الیکشن کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

Published: undefined

امیت یادو نے الزام لگایا کہ وی وی پیٹ کی کاپیاں انہیں سید راجہ اسمبلی کے اماد پور پولنگ بوتھ کے قریب پڑی ملی تھیں۔ امت یادو کا یہ بھی الزام ہے کہ یہاں سینکڑوں کی تعداد میں پرچیاں پڑی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی یہ معاملہ منظر عام پر آیا، بی ایس پی کارکن مشتعل ہو گئے۔ بی ایس پی امیدوار امت یادو کا الزام ہے کہ انہیں جو پرچیاں ملی ہیں ان میں ایس پی، بی ایس پی سمیت کئی دیگر پارٹیوں کی وی وی پیٹ کی پرچیاں ہیں لیکن ان میں بی جے پی سے متعلق کوئی پرچی نہیں ہے۔ لہذا گڑبڑی کئے جانے کا اندیشہ ہے۔

Published: undefined

واقعہ کے خلاف بی ایس پی امیدوار اپنے حامیوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھ گئے۔ دوسری جانب آدھی رات کے اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی انتظامی عملے میں کھلبلی مچ گئی۔ آناً فاناً میں ضلع انتظامیہ کے لوگوں نے بی ایس پی کارکنوں سے ملاقات کی اور پورے معاملے کی جانچ کے بعد کارروائی کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

Published: undefined

اے ڈی ایم اونیش کمار نے کہا کہ ’’بہوجن سماج پارٹی کے ضلع صدر نے بتایا ہے کہ انہیں کسی بوتھ پر وی وی پیٹ کی پرچیاں ملی ہیں۔ اس حوالے سے شکایت کی گئی تھی۔ ان کی درخواست لے لی گئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ سے بھی بات ہوئی ہے اور قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined