قومی خبریں

یوپی پنچایت انتخابات ملتوی ہونے کا امکان، ریزرویشن کا تعین کرنے والے پسماندہ طبقات کمیشن کی تشکیل نومؤخر

2027 میں یوپی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ریاست میں کمیشن کی تشکیل نہ ہونے اور ریزرویشن کے نامکمل عمل کی وجہ سے قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ پنچایت اوراسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرائے جا سکتے ہیں۔

اتر پردیش پنچایت انتخابات
اتر پردیش پنچایت انتخابات 

اتر پردیش میں رواں برس پنچایتی انتخابات کے سلسلے میں زور وشور کے ساتھ تیاریاں جاری ہیں۔ گاؤں کی گلیاں اور کوچے ممکنہ امیدواروں کے پوسٹراور بینر سے رنگین ہوچکے ہیں مگر اسی دوران اندازہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سال 2026 میں ہونے والے پنچایتی انتخابات اگلے برس کے لیے ملتوی ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سال 2027 میں یوپی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ریاست میں کمیشن کی تشکیل نہ ہونے اور ریزرویشن کے نامکمل عمل کی وجہ سے قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ پنچایت انتخابات اوراسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرائے جا سکتے ہیں۔

Published: undefined

بتا دیں کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کی تقریباً سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں 3 سطحی پنچایتی انتخابات کی تیاریاں اپنے شباب پرہیں اورامید کی جارہی تھی کہ آئندہ چند مہینوں میں انتخابات ہوں گے لیکن تازۃ صورتحال اس عمل کو بریک لگاتی نظر آرہی ہے۔ اس وجہ سے گاؤں کی حکومت کے لیے سرگرم امیدواراور مقامی رہنما پس وپیش میں ہیں۔

Published: undefined

الیکشن میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ پسماندہ طبقات کمیشن کا نہ ہونا بتایا جارہا ہے۔ کمیشن کی مدت اکتوبر 2025 میں ختم ہو گئی تھی اور قواعد کے مطابق ہر 3 برس بعد اس کی تشکیل نو لازمی ہے۔ ریزرویشن کا تعین اسی کمیشن کی رپورٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ عدالت میں دائر مفاد عامہ کی عرضی کے بعد حکومت نے ایک حلف نامہ جمع کرایا ہے جس میں کمیشن کی تشکیل کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ کمیشن کی تشکیل، سروے اور ریزرویشن کے تعین میں کم از کم 4 سے 6 ماہ لگنے کی امید ہے۔ ایسے حالات میں ڈیڈ لائن خود بخود آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

Published: undefined

سیاسی حلقوں میں بحث ہورہی ہے کہ اسمبلی انتخابات سے عین قبل پنچایتی انتخابات کا انعقاد کسی بھی پارٹی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ پنچایتی سطح پر گروپ بندی اور داخلی تنازعات بڑے انتخابات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کار اسے اسمبلی انتخابات سے قبل تنظیمی عدم اطمینان کو روکنے کے لیے ایک منصوبہ بند حکمت عملی بھی مانتے ہیں۔ تاہم حکومت نے سرکاری طور پر اسے محض قانونی اور طریقہ کار کی تاخیر بتایا ہے۔

Published: undefined

دریں اثناایک تازہ سیاسی پیش رفت کے تحت بہوجن سماج پارٹی کے سابق سینئر رہنما نسیم الدین صدیقی نے سماج وادی پارٹی میں شامل ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کے ساتھ ان کی بات چیت آخری مراحل میں بتائی جاتی ہے۔ ’یوپی تک‘ کے مطابق باندہ کے رہنے والے صدیقی کا بندیل کھنڈ اور مغربی اتر پردیش میں اثر و رسوخ مانا جاتا ہے۔ وہ اپنے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے لیے سیٹوں کی ٹھوس یقین دہانی چاہتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined