تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
اترپردیش حکومت نے بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری کو اب ان کے استعفیٰ کے بعد معطل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی اگنی ہوتری کے ذریعہ لگائے گئے سنگین الزامات کے درمیان کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بادی النظرمیں قصوروار پائے جانے پرانہیں فوری طور پرمعطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری کے بھی احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اس انکوائری کی ذمہ داری بریلی ڈویژن کے کمشنر کو سونپی گئی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں شاملی ضلع مجسٹریٹ کے دفتر سے منسلک رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں اسپیشل سیکرٹری کی سطح پر حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔
Published: undefined
یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری نے پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ضلع انتظامیہ اور ضلع مجسٹریٹ پر سنگین الزامات بھی لگائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں تقریباً 45 منٹ تک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر زبردستی حراست میں رکھا گیا۔’آج تک‘ کی خبر کے مطابق النکار اگنی ہوتری نے الزام لگایا کہ بات چیت کے بہانے انہیں وہاں بٹھائے رکھا گیا اور ذہنی دباؤ بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لکھنؤ سے ایک فون آنے کے بعد مبینہ طورپر کہا گیا کہ برہمن کے بہت دماغ خراب ہورہے ہیں، اسے یہیں بٹھالو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنی جان بچاکر وہاں سے نکلنا پڑا۔ ان الزامات کے بعد انتظامیہ پر سوالات اٹھنے لگے اور پورے صوبے میں یہ واقعہ موضوع بحث بن گیا۔
Published: undefined
سٹی مجسٹریٹ کے الزامات کے بعد ضلع انتظامیہ نے فوری ردعمل کا اظہار کیا۔ اے ڈی ایم جوڈیشل دیش دیپک سنگھ نے النکار اگنی ہوتری کے تمام الزامات کو بے بنیاد بتایا۔ انہوں نے کہا کہ سٹی مجسٹریٹ کو معمول کی انتظامی بات چیت کے لیے بلایا گیا تھا۔ اے ڈی ایم جوڈیشل کے مطابق اس وقت اے ڈی ایم انتظامیہ، اے ڈی ایم سٹی، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور وہ خود موجود تھے۔ گفتگو معمول کے ماحول میں ہوئی۔ انہیں چائے، کافی اور مٹھائیاں بھی پیش کی گئیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کوئی دباؤ، دھمکی یا یرغمال بنائے جانے جیسی کوئی صورتحال نہیں تھی۔
Published: undefined
اس تنازعہ کے درمیان ایک اور پیش رفت سامنے آئی۔ بتایا گیا کہ استعفیٰ دینے کے بعد النکار اگنی ہوتری نے تقریباً 12:30 بجے سرکاری رہائش گاہ سے اپنا بیشتر سامان نکلوالیا۔ اس کے بعد وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کسی نامعلوم مقام پر چلے گئے۔ تاہم انتظامی قواعد کے مطابق انہیں ابھی بھی باضابطہ طور پر سٹی مجسٹریٹ کا چارج سونپنا باقی ہے۔ اس لیے خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں رسمی کارروائیوں کو پورا کرنے کے لیے ایک یا دو دن مزید بریلی میں رہنا پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
النکاراگنی ہوتری نے اپنے استعفیٰ کو صرف انتظامی تنازعہ تک محدود نہیں رکھا۔ انہیں نے اپنے 5 صفحات پر مشتمل خط میں کئی سماجی اور سیاسی مسائل اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یو جی سی کے نئے ضوابط اور شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند کے شاگردوں کے ساتھ ہی ہوئی مبینہ بدسلوکی سے دکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو جی سی کے نئے ضوابط جنرل زمرہ خاص طور پر اونچی ذات کے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان ضوابط کے ذریعہ جنرل زمرے کے طلباء کو مشتبہ یا مجرموں کی طرح دیکھا جارہا ہے جس میں برہمن، چھتریہ، ویشیہ اور بھومیہار برادریوں کے طلباء متاثر ہوں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined