
عمر خالد / آئی اے این ایس
دہلی فساد سازش معاملے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون یعنی یو اے پی اے کے تحت گرفتار سابق جے این یو طلبہ رہنما عمر خالد نے عبوری ضمانت کے لیے دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ عمر خالد نے کڑکڑڈوما عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں ان کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
Published: undefined
دہلی ہائی کورٹ جمعرات کو عمر خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ عمر خالد نے اپنے مرحوم ماموں کے چہلم میں شرکت اور اپنی بیمار والدہ کی دیکھ بھال کے لیے 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست کی ہے۔ اس سے قبل کڑکڑڈوما عدالت نے ان کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ عبوری ضمانت کے لیے پیش کی گئی وجوہ مناسب اور اطمینان بخش نہیں ہیں۔ عدالت کے مطابق درخواست میں دی گئی بنیادیں ایسی نہیں تھیں جن کی بنیاد پر عبوری راحت دی جا سکے۔
Published: undefined
عمر خالد نے نچلی عدالت میں دلیل دی تھی کہ ان کے خاندان میں والد، والدہ اور پانچ بہنیں ہیں لیکن 71 سالہ والد والدہ کی دیکھ بھال کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی چار بہنوں کی شادی ہو چکی ہے اور وہ الگ الگ مقامات پر رہتی ہیں، اس لیے خاندان کے سب سے بڑے اور اکلوتے بیٹے ہونے کے ناتے وہ اپنی والدہ کی سرجری سے پہلے اور بعد میں ان کی دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عمر خالد کو پہلے بھی کئی مواقع پر عبوری ضمانت دی جا چکی ہے اور ہر بار انہوں نے عدالت کی تمام شرائط پر عمل کرتے ہوئے مقررہ وقت پر خودسپردگی کی۔
Published: undefined
مدعا علیہ نے یہ دلیل بھی دی تھی کہ شریک ملزمان تسلیم احمد، شفا الرحمان اور اطہر خان کو بھی خاندانی بیماری اور ذاتی وجوہ کی بنیاد پر عبوری ضمانت دی گئی تھی، اس لیے مساوات کے اصول کے تحت عمر خالد کو بھی راحت دی جانی چاہیے۔ دوسری طرف استغاثہ نے عبوری ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم عدالت کی نرمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
استغاثہ کے مطابق ماموں کا چہلم قریبی رشتہ داروں کی ایسی ضروری فہرست میں شامل نہیں آتا جس کی بنیاد پر عبوری ضمانت دی جائے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد بھی اس رسم کو انجام دے سکتے ہیں۔ استغاثہ نے یہ بھی کہا تھا کہ عمر خالد کی والدہ کی سرجری زیادہ سنگین نوعیت کی نہیں ہے اور خاندان کے دیگر افراد ان کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined