آر جی کر کیس کی پھر کھلے گی فائل، کلکتہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو دیا تحقیقات کا حکم

کلکتہ ہائی کورٹ نے آر جی کر معاملے کی دوبارہ تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو 3 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کلکتہ ہائی کورٹ / تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

کولکاتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج ہاسپٹل سے متعلق معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو اہم حکم دیا ہے۔ عدالت نے متاثرہ کے اہل خانہ کی جانب سے لگائے گئے ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزامات پر سی بی آئی انکوائری کی ہدایت دی ہے۔ ہائی کورٹ نے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو 3 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ اس ایس آئی ٹی کی سربراہی سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر (ایسٹرن زون) کریں گے۔ عدالت نے اس تحقیقاتی رپورٹ کو 25 جون تک پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ تازہ ترین حکم جسٹس شمپا سرکار اور جسٹس تیرتھنکر گھوش کی ڈویژن بنچ نے جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ متاثرہ کے اہل خانہ کی جانب سے کئی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہے۔ عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ وہ واقعے کی رات متاثرہ کے ڈنر کرنے کے وقت سے لے کر اگلے دن آخری رسومات کی ادائیگی تک کے پورے واقعے کی دوبارہ تحقیقات کرے۔


ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ تحقیقاتی ایجنسی ان تمام لوگوں سے پوچھ گچھ کر سکتی ہے، جنہیں وہ اس معاملے میں ضروری سمجھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایس آئی ٹی کو اس بات کی بھی تحقیقات کرنی ہوگی کہ کیا واقعی ثبوتوں کو مٹانے یا ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش ہوئی تھی؟ متاثرہ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ واقعے کے بعد کئی اہم حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور ابتدائی تحقیقات میں شدید لاپرواہی برتی گئی۔

عدالت نے کہا کہ تحقیقات صرف ایک رسمی کارروائی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہر پہلو کو تفصیل سے دیکھا جانا چاہیے۔ عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ جائے وقوعہ سے لے کر اسپتال انتظامیہ، پولیس کارروائی اور آخری رسومات تک کے عمل کے پورے سلسلے کی تحقیقات کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک جرم تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں انصاف کے عمل کی شفافیت اور عوام کے بھروسے کا بھی سوال جڑا ہوا ہے۔


آر جی کر میڈیکل کالج کا یہ معاملہ طویل عرصے سے مغربی بنگال میں موضوع بحث ہے۔ متاثرہ کے اہل خانہ نے مسلسل دعویٰ کیا ہے کہ معاملے کی ابتدائی تحقیقات میں کئی خامیاں تھیں اور اہم شواہد کو محفوظ نہیں رکھا گیا۔ اہل خانہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ واقعے کے بعد کچھ حقائق کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ عدالت نے سی بی آئی کو 25 جون تک اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر آگے کا عدالتی عمل طے کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ 9 اگست 2024 کی رات کو کولکاتہ کے آر جی کر اسپتال میں ایک ٹرینی ڈاکٹر کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کو لے کر مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں شدید غصہ دیکھا گیا تھا۔ کولکاتہ سمیت پورے ملک میں مظاہرے ہوئے اور بنگال میں 2 ماہ سے بھی زیادہ عرصے تک طبی خدمات معطل رہی تھیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔