’سیاسی لیڈران پر کیے جانے والے تبصرے، طنز یا تنقید جمہوریت کا اہم حصہ‘، راگھو چڈھا کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ کا تبصرہ
بی جے پی راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کی جانب سے سینئر وکیل راجیو نیئر نے دلیل دی کہ سوشل میڈیا پوسٹس میں انہیں پیسے کے لیے پارٹی بدلنے والا دکھایا گیا، جو منصفانہ تنقید کی حد سے باہر ہے۔

بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کو دہلی ہائی کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ ’پرسنالٹی رائٹس‘ (شخصی حقوق) معاملے میں ہائی کورٹ نے عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ کورٹ کا واضح طور پر کہنا ہے کہ سیاسی لیڈران پر کیے جانے والے تبصرے، طنز یا تنقید جمہوریت کا اہم حصہ ہے اور انہیں صرف اس لیے نہیں روکا جا سکتا کیونکہ وہ کسی کو پسند نہیں آ رہے ہیں یا انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہائی کورٹ اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں راگھو نے الزام عائد کیا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی تصویر، نام اور شناخت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ ان کی طرف سے سیاسی پارٹی تبدیل کرنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف منظم طریقے سے مہم چلائی گئی اور ان کے تشخص کو نقصان پہنچایا گیا۔
دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت جسٹس سبرامنیم پرساد کر رہے تھے۔ انہوں نے زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی شخصیت کی طرف سے لیے گئے فیصلوں پر تنقید ہونا عام بات ہے۔ وہ پبلک اسپیس میں ہیں۔ عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ یہ معاملہ پرسنالٹی رائٹس کا نہیں ہے۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ ان کی شبیہ کو داغدار کیا گیا تو وہ ہتک عزت کا معاملہ دائر کر سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے ملک کے مشہور کارٹونسٹ آر کے لکشمن کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہی سیاسی طنز اور کارٹون جمہوری بحث کا حصہ رہے ہیں۔ پہلے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نہیں تھے، اب ہیں اس لیے تنقید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دکھائی دیتی ہے۔
بی جے پی لیڈر راگھو چڈھا کی جانب سے سینئر وکیل راجیو نیئر نے دلیل دی کہ سوشل میڈیا پوسٹس میں انہیں پیسے کے لیے پارٹی بدلنے والا دکھایا گیا، جو منصفانہ تنقید کی حد سے باہر ہے۔ آخر میں عدالت نے اس معاملے میں امیکس کیوری مقرر کرنے کی بھی بات کہی اور عبوری حکم کو محفوظ رکھا۔ اس کے ساتھ ہی راگھو چڈھا کو ہتک عزت کا دعویٰ شامل کرنے کی اجازت دی۔
