ایرانی رکن پارلیمان کی دھمکی، ’حملہ ہوا تو سمندر کے نیچے بچھے انٹرنیٹ کیبل کاٹ دیں گے‘

ایران کے رکن پارلیمان محمود نبویان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دشمنانہ کارروائی ہوئی تو سمندر کے نیچے بچھے انٹرنیٹ کیبل کاٹے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کا محدود عالمی اثر پڑ سکتا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی کے باوجود خلیجی خطے میں تناؤ برقرار ہے۔ اسی دوران ایران کے رکن پارلیمان محمود نبویان کے ایک بیان نے عالمی سطح پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی دشمنانہ کارروائی کی گئی یا آبنائے ہرمز میں ایران کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو ایران سمندر کے نیچے بچھے انٹرنیٹ کیبل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

محمود نبویان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران کے خلاف امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کوئی جارحانہ قدم اٹھایا گیا تو اس کے سنگین عالمی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق سمندر کی تہہ میں موجود انٹرنیٹ کیبل کو نقصان پہنچنے کی صورت میں عالمی انٹرنیٹ خدمات، ڈیجیٹل معیشت اور بینکاری نظام طویل مدت تک متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی ایران کے سپہ پاسداران انقلابی اسلام نے بالواسطہ طور پر ایسی وارننگ دی تھی۔ ایران کی جانب سے خاص طور پر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے فائبر آپٹک نیٹ ورک کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ ان راستوں سے گزرنے والے مواصلاتی نظام خلیجی ممالک کی ڈیجیٹل خدمات کے لیے انتہائی اہم تصور کیے جاتے ہیں۔


آبنائے ہرمز کے قریب سے گزرنے والے کئی اہم سمندری مواصلاتی نیٹ ورک مشرق وسطیٰ کے ممالک کو عالمی انٹرنیٹ نظام سے جوڑتے ہیں۔ قطر، بحرین اور کویت جیسے ممالک اپنی مواصلاتی اور ڈیجیٹل ضروریات کے لیے ان رابطہ نظاموں پر کافی حد تک انحصار کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں کسی بڑے نقصان سے علاقائی سطح پر انٹرنیٹ خدمات اور مالیاتی نظام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی انٹرنیٹ نظام مکمل طور پر کسی ایک راستے پر منحصر نہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں ڈیٹا کی منتقلی کے متعدد متبادل راستے موجود ہیں، اس لیے کسی ایک مقام پر نقصان کی صورت میں عالمی سطح پر اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سمندر کی گہرائی میں موجود انٹرنیٹ کیبل کو نقصان پہنچانا آسان کام نہیں۔ اس طرح کی کارروائی نہ صرف تکنیکی اعتبار سے پیچیدہ ہوتی ہے بلکہ اس کے سیاسی، معاشی اور سفارتی نتائج بھی متعلقہ ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان نے ایک بار پھر خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ سے متعلق خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔