
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے حال ہی میں ’اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق ضوابط 2026‘ کو مطلع کیے جانے کے بعد ملک بھر میں مخالفت کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ جہاں ایک طرف مختلف ریاستوں میں دھرنے اور احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، وہیں عوامی ناراضگی کے اثرات اب حکمراں جماعت بی جے پی کے اندر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ متعدد مقامات پر پارٹی عہدیدار اور کارکن مستعفی ہو کر اپنے اعتراضات درج کرا چکے ہیں۔
Published: undefined
تازہ معاملہ اتر پردیش کے ضلع بلند شہر سے سامنے آیا ہے، جہاں بی جے پی کے 10 بوتھ صدور نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد پارٹی میں اندرونی بے چینی مزید واضح ہو گئی ہے، جبکہ اعلیٰ ذات برادری میں بھی ان ضوابط کو لے کر شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
خورجہ کے مراری نگر شکتی کیندر سے وابستہ بوتھ صدور ونے کمار گپتا (بوتھ 268)، راجویر سنگھ (261)، پروشوتم چوہان (269)، چندر شیکھر شرما (270)، نیرج کمار (202)، پروین رادھو (271)، مکیش کمار (272)، شیوندر چوہان (263) اور سیندر چوہان (274) نے بدھ کے روز اپنے استعفے پارٹی قیادت کو سونپ دیے۔ استعفیٰ نامے میں کہا گیا ہے کہ سورن سماج طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط حامی رہا ہے، لیکن یو جی سی کے نئے ضوابط کے بعد اس طبقے میں گہرا غصہ پیدا ہو گیا ہے۔
Published: undefined
استعفیٰ نامے کے مطابق ان ضوابط سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اعلیٰ ذات برادری کو ظالم اور استحصال کرنے والے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام کے درمیان پارٹی کے منصوبوں اور پالیسیوں کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بوتھ صدور کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تیار کردہ یو جی سی کے مسودے نے سورن سماج میں شدید بے اطمینانی پیدا کی ہے اور اس نوعیت کے قوانین سے سماجی تقسیم کو فروغ ملنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر یو جی سی کے یہ ضوابط منسوخ نہیں کیے گئے تو انہیں نہ صرف بوتھ صدر کے عہدے بلکہ پوری بوتھ کمیٹی کی ذمہ داریوں سے بھی آزاد کر دیا جائے۔ استعفیٰ کی کاپیاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔
Published: undefined
یہ معاملہ اتر پردیش میں یو جی سی کے ضوابط کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ یو جی سی نے 13 جنوری 2026 کو ان ضوابط کو مطلع کیا تھا، جن کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایکویٹی کمیٹیوں، ہیلپ لائنز اور شکایت ازالہ نظام کو لازمی بنایا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط بنیادی طور پر ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طلبہ کے معاملات پر مرکوز ہیں، جس سے جنرل زمرے کے طلبہ اور ان کے حامیوں میں جانبدار رویے اور فرضی شکایات کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ پیلی بھیت، سہارنپور، فیروز آباد، باغپت، رائے بریلی اور لکھنؤ سمیت ریاست کے کئی اضلاع میں بی جے پی کے عہدیدار اور کارکن مستعفی ہو چکے ہیں، جبکہ مختلف سورن تنظیموں نے بھی احتجاج کیا ہے۔ اس معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ ان ضوابط کا غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے نافذ کیے جائیں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined