
نپاہ وائرس / آئی اے این ایس
عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ مغربی بنگال میں نپاہ وائرس کے انفیکشن کے دو کیس سامنے آئے ہیں۔ دونوں متاثرہ افراد کی عمر 25 برس ہے جن میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ یہ دونوں شمالی 24 پرگنا ضلع کے ایک نجی اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ادارہ صحت کے مطابق متاثرہ افراد میں دسمبر 2025 کے آخری دنوں میں ابتدائی علامات ظاہر ہوئیں جو بعد میں تیزی کے ساتھ اعصابی پیچیدگیوں میں تبدیل ہو گئیں۔
Published: undefined
جنوری کے ابتدائی دنوں میں دونوں افراد کو طبی نگرانی اور مکمل تنہائی میں رکھا گیا تھا تاکہ انفیکشن کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کیسز میں انسان سے انسان میں وائرس کے پھیلنے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں، جو عوامی صحت کے نقطۂ نظر سے ایک اطمینان بخش بات ہے۔
نپاہ وائرس ایک زونوٹک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر چمگادڑوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور آلودہ غذا کے استعمال یا متاثرہ جانوروں اور انسانوں کے قریبی رابطے کے نتیجے میں انسانوں میں داخل ہو سکتا ہے۔ بعض حالات میں یہ وائرس صحت کی سہولیات کے اندر بھی منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب متاثرہ شخص کے ساتھ طویل اور غیر محفوظ رابطہ ہو۔
Published: undefined
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، مغربی بنگال میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں ریاستی سطح پر خطرے کو معتدل جبکہ قومی اور عالمی سطح پر کم قرار دیا گیا ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر کسی قسم کی سفری پابندیوں کی سفارش نہیں کی جا رہی۔
ان کیسز کے سامنے آنے کے بعد صحت عامہ سے متعلق ایک جامع کارروائی عمل میں لائی گئی۔ متاثرہ افراد کے رابطے میں آنے والے 196 افراد کی نشاندہی کی گئی، ان کی نگرانی کی گئی اور ان کے ٹیسٹ کرائے گئے۔ جانچ کے نتائج کے مطابق ان تمام افراد میں نپاہ وائرس کے انفیکشن کی تصدیق نہیں ہوئی۔
Published: undefined
نپاہ وائرس کے انفیکشن کی شدت مختلف ہو سکتی ہے، بعض افراد میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں جبکہ بعض میں سانس لینے میں شدید دشواری اور اعصابی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر اس وائرس سے اموات کی شرح چالیس سے 75 فیصد کے درمیان بتائی جاتی ہے، تاہم بروقت تشخیص اور معیاری طبی نگہداشت سے اس شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
فی الحال نپاہ وائرس کے لیے کوئی مستند ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے، البتہ مختلف سطحوں پر تحقیق جاری ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے زور دیا ہے کہ بروقت تشخیص، متاثرہ افراد کی مناسب دیکھ بھال اور عوامی سطح پر آگاہی ہی اس انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined