
الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے منگل کے روز ایک اہم فیصلے میں کہا کہ خواجہ سرا برادری کے افراد کو روایتی ’مبارکبادی‘ یا ’نیگ‘ (خوشی کے مواقع پر دئیے جانے والے نقد تحائف) مانگنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسے مطالبات کرنا بھارتیہ نیائے سہنتا کے تحت جرم مانا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے جسٹس آلوک ماتھور اور امیتابھ کمار رائے نے یہ حکم گونڈا ضلع کی ایک خواجہ سرا ریکھا دیوی کی طرف سے دائر رٹ پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے جاری کیا۔ اپنی درخواست میں ریکھا دیوی نے ’نیگ‘ (تحائف) پانے کے لیے ایک خاص علاقے کو خود کے لیے ریزرویشن کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
Published: undefined
عرضی گزار نے قصبہ جرول کے ’کاٹی کا پل‘ سے ’گھاگھرا گھاٹ‘ اور کرنیل گنج کے ’سریو پل‘ تک کے علاقے کو اپنے لیے مخصوص علاقے کے طور پر ریزرو کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کئی سالوں سے ان علاقوں سے ’نیگ‘ لیتی لیتی رہی ہے۔ اس کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ جب اس کی برادری کے دیگر افراد علاقے کا دورہ کرتے ہیں تو اکثر جھگڑے اور جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دیرینہ رواج ایک روایتی حق بن چکا ہے۔ تاہم عدالت نے اس درخواست کو خارج کر دیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ کوئی بھی لیوی، ٹیکس یا فیس صرف قانون کے تحت ہی وصول کی جا سکتی ہے۔ ’مبارکبادی‘ یا ’ججمانی‘ کے نام پر پیسے لینے کی روایت کو قانون کی کوئی منظوری نہیں ہے۔
Published: undefined
بنچ نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی شخص سے جان بوجھ کر یا کسی بھی طریقے سے رقم وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کسی بھی شہری کو صرف وہی رقم ادا کرنے کی ہدایت کی جا سکتی ہے جو قانون کے مطابق جائز ہو۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ خواجہ سرا شخص (تحفظ برائے حقوق) ایکٹ 2019 اس طرح کے کسی حق کا کو التزام نہیں کیا گیا ہے۔
Published: undefined
درخواست کو خارج کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اس طرح کی درخواست کو منظور کرنے کا مطلب ہوگا کہ غیر قانونی وصولی کو قانونی شکل دینا ہے جس سے مجرمانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی وصولی کو کبھی بھی قانون کے ذریعہ جائز قرار نہیں دیا گیا ہے اور اس کے لیے بھارتیہ نیائے سہنتا کی دفعات کے تحت سزا کا بندوبست بھی نافذ ہوسکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined