قومی خبریں

’ٹرانس جینڈر بل‘ لوک سبھا سے منظور، اپوزیشن نے بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجنے کا کیا مطالبہ

سماجی انصاف کے وزیر ڈاکٹر وریندر کمار نے لوک سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کسی کے خلاف نہیں ہے۔ یہ بل ٹرانس جینڈر معاشرے کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا / آئی اے این ایس</p></div>

لوک سبھا / آئی اے این ایس

 
IANS

ٹرانس جینڈر رائٹس ایکٹ (ترمیمی) بل لوک سبھا سے منظور کر لیا گیا ہے۔ اس بل پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے سماجی انصاف امپاورمنٹ کے وزیر ڈاکٹر وریندر کمار نے کہا کہ اس ترمیم کی منظوری سے قانونی وضاحت آئے گی۔ اس ترمیم کے ذریعے جرائم کے خلاف قانون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ٹرانس جینڈر‘ کی حساسیت کو کسی بھی طرح سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت ان کے مفاد کے حق میں کام کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یہاں اپنی بات رکھنے والے اپوزیشن کے تمام اراکین کی باتوں سے بھی یہی لگا کہ وہ بھی ٹرانس جینڈر افراد کی بہتری ہی چاہتے ہیں۔

Published: undefined

سماجی انصاف کے وزیر ڈاکٹر وریندر کمار نے لوک سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کسی کے خلاف نہیں ہے۔ یہ بل ٹرانس جینڈر معاشرے کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔‘‘ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا جائے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے، کانگریس کی ایس جوتیمنی، سماج وادی پارٹی کے آنند بھدوریا، ڈی ایم کے کی ٹی سمتھی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے تمام اراکین پارلیمنٹ نے اس بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Published: undefined

ایس جوتیمنی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا اور ترمیم شدہ بل کے التزامات کی مخالفت کی۔ کانگریس لیڈر کے علاوہ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آنند بھدوریا نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس بل میں ٹرانس جینڈر معاشرے کی تعریف غیر واضح ہے۔ یہ ایک ’امبریلا ٹرم‘ ہے۔ اس تنوع کو نظر انداز کرنا آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم سیلف ڈیکلریشن کے التزامات کو ہٹا دیتا ہے۔ اس میں انسان کے اپنی اصل شناخت کے ساتھ جینے کے حق کو ایک جرم جیسا بنا دیا گیا ہے۔‘‘ آنند بھدوریا کے مطابق نئی ترمیم کی وجہ سے ٹرانس جینڈرز کی قانونی شناخت اور انہیں ملنے والی سہولیات خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ’مہابھارت‘ میں بھی ’شکھنڈی‘ کی عظیم داستان ملتی ہے۔ ٹرانس جینڈر کمیونٹی اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہ کر اپنی حفاظت اور جینے کا حق رکھتا آیا ہے، یہ بل ان سے یہ حق چھین رہا ہے، یہ بل ان سے یہ حق چھین رہا ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب ایک وفد، جو پورے ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ٹرانس جینڈر کارکنان پر مشتمل تھا، نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سے دہلی میں آج ہی ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی سمیت پارٹی کے دیگر سینئر رہنما بھی موجود تھے۔ وفد نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ ’ٹرانس جینڈر پرسنز‘ بل کی سخت مخالفت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بل ان کے اپنے جنس کی ’خود شناخت‘ کے حق کو کمزور کرتا ہے، جو کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تسلیم شدہ حق ہے۔

Published: undefined

وفد نے نشاندہی کی کہ یہ بل لاکھوں ٹرانس جینڈر افراد، جن میں تاریخی طور پر تسلیم شدہ برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں، کو قانونی شناخت اور تحفظ سے محروم کر سکتا ہے۔ انہوں نے ان دفعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جنہیں انہوں نے غیر انسانی اور سزا دینے والی قرار دیا، جن میں لازمی طبی معائنہ، مناسب تحفظات کے بغیر فوجداری سزائیں، اور موجودہ تحفظات کو کمزور کرنا شامل ہیں۔ راہل گاندھی نے وفد کو یقین دلایا کہ کانگریس پارٹی ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق اور وقار کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور پارلیمنٹ میں اس بل کی مخالفت کرے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined