قومی خبریں

سنبھل کے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ کا تبادلہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نوٹس لے: کانگریس

کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ چیف پون کھیڑا نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے عدالتی نظام کا اغوا کر لیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا</p></div>

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا

 

تصویر: پریس ریلیز

کانگریس نے سنبھل کے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ (سی جے ایم) وبھانشو سدھیر کے تابدلہ کو عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ ہفتہ کے روز پارٹی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ چیف پون کھیڑا نے پریس کانفرنس کر سپریم کورٹ اور الٰہ آباد ہائی کورٹ سے گزارش کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بی جے پی نے اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے عدالتی نظام کا اغوا کر لیا ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ سی جے ایم وبھانشو سدھیر نے سنبھل تشدد معاملہ میں 9 جنوری کو اُس وقت کے پولیس سرکل افسر (سی او) انوج چودھری سمیت 20-15 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے کچھ دن بعد ہی ان کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ کھیڑا نے اس معاملہ پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’بی جے پی حکومت نے ایک بار پھر اس ملک کے جمہوری اداروں کو کھلے عام کمزور کر کے اپنا سب سے خطرناک، عوام مخالف، آئین مخالف، بربریریت و تاناشاہی والا کردار ظاہر کر دیا ہے۔ سنبھل کے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا اچانک تبادلہ کوئی ایڈمنسٹریٹو کارروائی نہیں ہے، یہ عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔‘‘ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بی جے پی نے ایک خطرناک اور قابل مذمت فارمولہ ایجاد کیا ہے، اور وہ فارمولہ ہے– فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرو، تشدد پھیلاؤ، جرائم پیشوں کو بچاؤ اور پھر کسی بھی ایسے ادارہ کو کچل دو جو جوابدہی کا مطالبہ کرنے کی ہمت کرے۔

Published: undefined

کھیڑا کا کہنا ہے کہ سنبھل معاملہ کوئی استثنیٰ نہیں ہے، بلکہ یہ قصداً اور گہری و خطرناک حکمت عملی کے تحت کی گئی کارروائی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنبھل واقعہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ یہ بی جے پی حکومت کی نفرت، پولرائزیشن اور سزا سے بچانے والی سیاست کا نتیجہ ہے۔ قانون پر عمل کرتے ہوئے آئینی انداز میں حکومت چلانے کی جگہ بی جے پی نے سرگرم طریقے سے فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ دیا، نفرت پھیلانے والوں کو بچایا اور تفریق آمیز و تشدد آمیز اقدام کیے، جس سے ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان شگاف گہرے ہو گئے۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ نام نہاد ’ڈبل انجن‘ بی جے پی حکومت بہت آگے بڑھ گئی ہے، جس نے عدلیہ کو ڈرانے، پالتو بنانے اور پھر اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

Published: undefined

پون کھیڑا نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح برسراقتدار پارٹی نے اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے عدلیہ کا اغوا کر لیا ہے۔ انھوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سپریم کورٹ اور الٰہ آباد ہائی کورٹ سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ سنبھل کے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کے منمانے اور بے حد پریشان کرنے والے تبادلہ کا از خود نوٹس لے۔ یہ معاملہ صرف ایک جیوڈیشیل افسر کے تبادلہ سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی کو بنائے رکھنے، ادارتی خود مختاری کی حفاظت کرنے اور ملک میں جمہوری حکومت کے مزید زوال کو روکنے کے لیے وقت پر عدالتی مداخلت ضروری ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined