
سیپٹک ٹینک علامتی تصویر/ نیوز کلک
بہار میں گزشتہ روز سرائے تھانہ علاقے کے گاؤں انور پور میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہاں ایک گھر کے آنگن میں بنے سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے ایک ہی خاندان کے 4 لوگوں کی موت ہوگئی۔ متوفیوں میں باپ، بیٹا اور دو بھائی شامل ہیں۔ حادثے کی خبر نے علاقے کو غمزدہ کردیا ہے۔ پولیس اب اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
Published: undefined
اطلاعات کے مطابق اتوار کو ویشالی ضلع کے سرائے تھانہ علاقے کے تحت واقع گاؤں انور پورکے رہنے والے آنند کمار کے گھر ٹینک کی صفائی شروع ہوئی۔ آنند کا بیٹا پریانشو پہلے اندراُترا۔ جب کافی دیر تک وہ باہر نہیں نکلا تو اس کے والد آنند اندر گئے، جب وہ بھی باہر نہیں آئے تو آنند کے دونوں بھائی پنکج اور راہل انہیں بچانے کے لیے اندر اترے لیکن وہ بھی بے ہوش ہو کر گرگئے۔
Published: undefined
بتایا جاتا ہے کہ 3 دیگر گاؤں والے اجے، سجیت اور درگیش جنہوں نے انہیں بچانے کی کوشش کی وہ بھی زہریلی گیس کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے۔ ٹینک کے اندر کل 7 لوگ پھنس گئے۔ اس حادثے سے گاؤں میں افراتفری مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر فائٹرز موقع پر مہنچے اورمقامی رہائشیوں کی مدد سے گھنٹوں مشقت کرکے سبھی کو ٹینک سے نکالا۔
Published: undefined
فائرآفیسرمنٹو کمار سنگھ نے بتایا کہ فائر فائٹرز نے بی اے سیٹ (ریسپیریٹر) کا استعمال کرتے ہوئے رسی چیئر نیٹ بناکر سبھی کو باہر نکالا۔ ٹیم میں فائر مین محمد ارمان علی، اسسٹنٹ فائر آفیسر منٹو کمار سنگھ، سنیل کمار، فائر مین منی کانت کمار، پرکاش کمار، نتیش کمار اور سیما کماری شامل تھے۔
Published: undefined
سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران زہریلی گیس سے بے ہوش لوگوں کو تھانہ سرائے کی پولیس صدر اسپتال لے کرپہنچی۔ بیک وقت 3 لوگوں کوایمرجنسی روم میں لائے جانے سے افراتفری مچ گئی۔ ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز نے ان کا علاج شروع کر دیا لیکن جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے تینوں کو مردہ قرار دے دیا۔
Published: undefined
سجپق لال گنج ریفرل اسپتال سے ابتدائی طبی امداد کے بعد صدر اسپتال لائے گئے پنکج کمار کو بھی ڈاکٹر نے مردہ قرار دے دیا۔ اطلاع ملتے ہی اہل خانہ اور عزیز و اقارب ہمحٹہی پہنچ گئے۔ جن کا رُورُو کر بُرا حال تھا۔ گیس سے دم گھٹنے سے بے ہوش اجے کمار، سوجیت کمار اور متوفی پنکج کے بیٹے درگیش کمار کا مقامی اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔
Published: undefined
تصویر قومی آواز / وپن
تصویر سوشل میڈیا