قومی خبریں

بیٹی کی جان بچانے کے لئے جنگلی خنزير کے سامنے ڈٹ گئی ماں، بچی بچ گئی ماں جان بحق

رپورٹ کے مطابق 45 سالہ دواسیا بائی اپنی 11 سالہ بیٹی سنیتا کے ساتھ مٹی لینے کے لئے قریبی گاؤں کے کھیت میں گئی تھی، جہاں مٹی کھودتے ہوئے دونوں پر جنگلی خنزیر نے حملہ کر دیا۔

<div class="paragraphs"><p>جائے وقوعہ پر موجود لوگ/ ویڈیو گریب</p></div>

جائے وقوعہ پر موجود لوگ/ ویڈیو گریب

 

کوربا: چھتیس گڑھ کے کوربا ضلع میں واقع جنگلات میں انسانوں اور جانوروں کے درمیان خونریزی لگاتار جاری ہے۔ اسی ضمن میں ایک ماں اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے جنگلی خنزیر (سور) سے لڑ پڑی۔ خاتون نے جنگلی خنزیر کا تقریباً آدھے گھنٹے تک مقابلہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق 45 سالہ دواسیا بائی اپنی 11 سالہ بیٹی سنیتا کے ساتھ مٹی لینے کے لئے قریبی گاؤں کے کھیت میں گئی تھی، جہاں مٹی کھودتے ہوئے دونوں پر جنگلی خنزیر نے حملہ کر دیا۔

Published: undefined

دواسیا نے اچانک ہوئے حملہ کے بعد اپنی جان کی پرواہ نہیں کی اور جنگلی خنزیر کے سامنے ڈت گئی۔ دونوں کے درمیان تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہنے والی جنگ میں دواسیا کی جان چلی گئی، تاہم دواسیا نے مٹی کھودنے کی کدال سے خنزیر پر جو جوابی حملے کئے اسے وہ بھی برداشت نہ کر سکا اور وہ بھی مر گیا۔ خاتون اور جنگلی خنزیر کی موت کی خبر ملتے ہی گاؤں والے موقع پر جمع ہو گئے۔

Published: undefined

یہ واقعہ کوربا ضلع کے پاسان تھانہ علاقہ کے تیلیامار گاؤں میں پیش آیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی محکمہ جنگلات کی ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی اور ضروری کارروائی شروع کی۔ لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ جبکہ مردہ جنگلی خنزیر بھی اٹھا لیا گیا ہے۔

Published: undefined

خاتون کے جسم پر کئی زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں اور خنزیر بھی موقع پر مردہ پایا گیا۔ دونوں کی موقع پر ہی موت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دونوں کے درمیان لڑائی کتنی زبردست ہوئی ہوگی۔ اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف کا ماحول پایا جاتا ہے۔ محکمہ جنگلات نے گاؤں والوں کو خاص طور پر چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ جنگلات کی ٹیم نے ابتدائی تحقیقات کے بعد لواحقین کو 25 ہزار روپے کا معاوضہ دیا ہے۔ وہیں، اس واقعہ میں ڈری ہوئی بچی کو بھی علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined