
سنجے راؤت / آئی اے این ایس
ممبئی: شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے نام اور انتخابی نشان کے استعمال پر الیکشن کمیشن کی عبوری پابندی کے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن دباؤ میں فیصلے لے رہا ہے تو ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے۔
راؤت نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس ممتا بنرجی کی قائم کردہ پارٹی ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ٹی ایم سی کو توڑنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ پارٹی کے اندر بغاوت ہو جانے سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ پارٹی باغی گروپ کی ہو گئی ہے۔
سنجے راؤت نے کہا، ’’ممتا بنرجی نے پارٹی قائم کی اور اس کے مقاصد طے کیے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو ٹکٹ بھی دیے، لیکن بی جے پی نے پارٹی کو توڑ دیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پارٹی باغیوں کی ہو گئی۔ پارٹی ممتا بنرجی کی ہے۔‘‘
انہوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کو ٹی ایم سی کے انتخابی نشان پر پابندی نہیں لگانی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق باغی گروپ کو کسی دوسرے انتخابی نشان کے ساتھ انتخاب لڑنے کی اجازت دی جانی چاہیے تھی۔
راؤت نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن دباؤ میں اس طرح کے فیصلے کرتا ہے تو جمہوریت خطرے میں ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کمیشن نے ٹی ایم سی کے اندر جاری تنازعہ کے پیش نظر دونوں گروپوں کو پارٹی کے اصل نام اور محفوظ انتخابی نشان کے استعمال سے روک دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے کل 17 ستمبر کو جاری اپنے عبوری حکم میں کہا تھا کہ ممتا بنرجی اور دوسرے گروپ کی جانب سے پارٹی کے نام اور انتخابی نشان پر دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ کمیشن نے آئندہ ضمنی انتخابات کے پیش نظر دونوں گروپوں کو ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور پارٹی کے روایتی انتخابی نشان ’پھول اور گھاس‘ کے استعمال سے روک دیا تھا۔
کمیشن نے آج دونوں گروپوں کو عارضی طور پر الگ الگ نام اور انتخابی نشان الاٹ کر دیے۔ ممتا بنرجی کے گروپ کو ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور فٹ بال کھلاڑی کا نشان دیا گیا، جبکہ اروپ رائے کے گروپ کو ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ نام اور لفافہ انتخابی نشان الاٹ کیا گیا۔
یہ انتظام مغربی بنگال میں 6 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے ہے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اصل پارٹی کے نام اور انتخابی نشان پر حتمی فیصلہ بعد کی کارروائی میں کیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔