انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 147اے پر سپریم کورٹ کی عبوری روک، اسیسمنٹ کارروائی بھی معطل
سپریم کورٹ نے دفعہ 147اے کو غیر آئینی قرار دینے والے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے متعلقہ اسیسمنٹ کارروائی بھی حتمی فیصلے تک روک دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 147اے سے متعلق ایک اہم معاملے میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عبوری روک لگا دی ہے۔ ہائی کورٹ نے 10 ستمبر کو دفعہ 147اے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کے تحت جاری ری اسیسمنٹ سے متعلق نوٹس بھی منسوخ کر دیے تھے۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کو مرکز اور محکمہ انکم ٹیکس کے دیگر افسران کی جانب سے دائر خصوصی اجازت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ عبوری حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ معاملے کا حتمی فیصلہ ہونے تک متعلقہ اسیسمنٹ کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔ معاملے کی اگلی سماعت 3 دسمبر 2026 کو ہوگی۔
یہ تنازعہ انکم ٹیکس قانون میں 2026 میں شامل کی گئی دفعہ 147اے سے متعلق ہے۔ اس دفعہ کو یکم اپریل 2021 سے سابقہ اثر کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ دفعہ 148 اور 148A کے تحت دوبارہ اسیسمنٹ کے معاملات میں ’اسیسنگ آفیسر‘ سے مراد نیشنل فیس لیس اسیسمنٹ سینٹر یا متعلقہ فیس لیس اسیسمنٹ یونٹ کے علاوہ افسر ہوگا۔
سادہ الفاظ میں معاملہ اس بات پر ہے کہ کسی شخص کی پرانی انکم ٹیکس ریٹرن کو دوبارہ جانچنے یا اسیسمنٹ کرنے کا اختیار کس افسر کے پاس ہوگا۔ تنازعہ خاص طور پر جورسڈکشنل اسیسنگ آفیسر اور فیس لیس اسیسمنٹ نظام کے درمیان اختیار کی تقسیم سے پیدا ہوا ہے۔ سوال یہ تھا کہ کیا مقامی دائرۂ اختیار رکھنے والا اسیسنگ آفیسر خود دفعہ 148 کے تحت ری اسیسمنٹ نوٹس جاری کر سکتا ہے یا یہ کارروائی مقررہ فیس لیس نظام کے ذریعے ہی ہونی چاہیے۔
پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں دائر متعدد درخواستوں میں دفعہ 147اے کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ دفعہ آئین کے آرٹیکل 14، 19(1)(جی) اور 265 کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دفعہ 148 کے تحت جاری کئی نوٹس مقررہ خودکار اور بے چہرہ (فیس لیس) طریقہ کار کے مطابق جاری نہیں کیے گئے۔
ہائی کورٹ نے 10 ستمبر کے فیصلے میں دفعہ 147اے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ محض سابقہ اثر سے قانون میں تبدیلی کرکے پہلے سے موجود عدالتی فیصلوں کے نتیجے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ متعلقہ اسیسنگ افسران کی جانب سے جاری کیے گئے کئی نوٹس مقررہ رینڈمائزڈ الاٹمنٹ اور فیس لیس طریقہ کار پر پورا نہیں اترتے، اس لیے انہیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
