دہلی میں گینگ ریپ اور قتل: راہل گاندھی کا امت شاہ سے سوال- ’خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری آخر کس کی؟‘
دہلی کے سوروپ نگر میں کم عمر لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کے معاملے میں تین نابالغوں سمیت چار ملزمان پکڑے گئے۔ راہل گاندھی نے امیت شاہ سے خواتین کی سلامتی پر جواب مانگا

نئی دہلی: دہلی کے سوروپ نگر علاقے میں ایک کم عمر لڑکی کے اجتماعی آبروریزی کے بعد قتل کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی پولیس پر سوال اٹھائے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں 3 نابالغوں سمیت 4 ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔
راہل گاندھی نے جمعہ کو ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ دہلی میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی، اس کے بعد اسے قتل کر کے لاش کھلے میدان میں پھینک دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ راجدھانی میں اتنا سنگین واقعہ پیش آیا اور پولیس کو کئی دن تک اس کی اطلاع نہیں ملی۔
انہوں نے کہا، ’’بدقسمتی ہے کہ دہلی آج راجدھانی نہیں، خواتین کے لیے ہر دن کی خوفناک کہانی بن کر رہ گئی ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس ان کے ماتحت ہے اور خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری آخر کس کی ہے؟
کانگریس رہنما نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا دہلی پولیس کا کام صرف عام شہریوں کو ڈرانا اور دھمکانا رہ گیا ہے، کیونکہ جرائم پیشہ عناصر بے خوف گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، ان کے خلاف سخت کارروائی ہو اور سزا دلائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے میں ’مجرمانہ غفلت‘ کی جواب دہی طے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
دہلی پولیس کے مطابق سوروپ نگر کے کشک روڈ کے قریب 13 ستمبر کی صبح ایک کھلے میدان میں لڑکی کی لاش ملی تھی۔ لاش انتہائی خراب حالت میں تھی اور جانوروں نے اسے نوچ ڈالا تھا، جس کے باعث ابتدائی طور پر مقتولہ کی شناخت اور جنس تک واضح نہیں ہو سکی تھی۔ بعد میں شناخت ہونے پر معلوم ہوا کہ مقتولہ کم عمر لڑکی تھی۔
پولیس نے معاملے کی تفتیش کے دوران جائے وقوعہ اور آس پاس کے علاقوں میں نصب 50 سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی۔ فوٹیج میں ایک مشتبہ ٹیمپو کی آمدورفت نظر آئی۔ اندھیرے کی وجہ سے ابتدا میں اس کا رجسٹریشن نمبر واضح نہیں ہو سکا، تاہم مختلف کیمروں کی فوٹیج کو جوڑ کر پولیس نے اس کے راستے کا سراغ لگایا۔
پولیس کے مطابق 15 ستمبر کی رات ٹیمپو کھڈہ کالونی میں ملا۔ اس کے ڈرائیور سے پوچھ گچھ کے بعد پولیس نے 3 نابالغوں سمیت 4 افراد کو پکڑا۔ پولیس نے ان کے قبضے سے دو چاقو، واردات کے وقت پہنے گئے کپڑے اور ٹیمپو برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان میں ایک 17 سالہ لڑکا مقتولہ کا مبینہ دوست تھا، جس سے ملنے کے لیے وہ گئی تھی۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کو بلایا تھا۔ پولیس کا الزام ہے کہ اجتماعی آبروریزی کے بعد ملزمان کو خدشہ ہوا کہ لڑکی واقعے کی اطلاع پولیس کو دے سکتی ہے، جس کے بعد اس پر چاقو سے حملہ کر کے قتل کیا گیا اور لاش کھلے میدان میں پھینک دی گئی۔ تاہم پولیس شواہد اور فرانزک جانچ کی بنیاد پر ملزمان کے کردار اور واقعے کی مکمل ترتیب کی تصدیق کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کہا کہ خواتین کی حفاظت کے بغیر ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
