
اندور بی جے پی حکمراں مدھیہ پردیش کی معاشی راجدھانی کہی جاتی ہے۔ اس شہر کو ملک کے سب سے صاف شہر کا تمغہ حاصل ہے، لیکن دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہاں آلودہ پانی پینے کی وجہ سے قے اور دست کی وبا پھیل گئی جس نے کم از کم 13 لوگوں کی زندگی چھین لی۔ حالانکہ اس اعداد و شمار پر مقامی لوگوں، حکومت اور افسران کے درمیان تضاد برقرار ہے۔ اس درمیان حیدر آباد سے رکن پالیمنٹ اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے اس حادثہ کے لیے بی جے پی کو نہ صرف ذمہ دار ٹھہرایا ہے بلکہ اس کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی ہے۔ اویسی نے تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ عام لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر تو چلوا سکتے ہیں لیکن انہیں پینے کا صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات نہیں دے سکتے۔
Published: undefined
حیدرآباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ’’انہیں (بی جے پی کو) صرف مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کارروائی کی پرواہ ہے۔ وہ صاف پینے کے پانی جیسی ضروری چیزیں بھی نہیں دے سکتے اور خود کو وشو گرو کہتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’انہیں صرف بلڈوزر کی فکر ہے، کسی مسلمان پر الزام لگا تو اس کو لا کر پیٹتے ہیں اور گھر توڑ دیتے ہیں۔ ان کی حکومت ایسی ہی ہے، ملک میں انسانوں کو بنیادی سہولیات بھی مہیا نہیں کرا سکتے۔ ہم 2026 میں آ گئے ہیں اور یہ لوگ وِشوگرو بننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن صاف پانی بھی نہیں دے سکتے۔ لوگ گندہ پانی پی کر مر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو چُلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ اندور میں مقامی شہریوں نے آلودہ پانی کی وبا کے دوران گزشتہ 8 دنوں میں 6 ماہ کے بچے سمیت 13 لوگوں کے دم توڑنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ انتظامیہ نے ڈائریا سے صرف 4 اموات کی تصدیق کی ہے۔ افسران کے مطابق پہلی نظر میں لیکیج کی وجہ پینے کے پانی کی پائپ لائن میں ڈرینج کا گندہ پانی مل جانے کی وجہ سے بھاگیرتھ پورہ میں قے اور دست کی وبا پھیلی۔ بھاگیرتھ پورہ ریاست کے شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے انتخابی حلقہ اندور-1 میں آتا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ وجے ورگیہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ قے اور دست کی وبا سے بھاگیرتھ پورہ میں 1400 سے 1500 لوگ متاثر ہوئے ہیں جن میں سے تقریباً 200 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور صحت یاب ہونے پر لوگوں کو اسپتال سے مسلسل چھٹی دی جا رہی ہے۔ وجے ورگیہ نے اموات کے اعداد و شمار پر جاری تضاد کے بارے میں کہا کہ ’’مجھے انتظامیہ کے افسران نے اس وبا سے 4 لوگوں کی موت کی اطلاع دی ہے، لیکن یہاں (بھاگیرتھ پورہ میں) 8 سے 9 لوگوں کی موت کی اطلاع ہے۔ ہم اس اطلاع کی تصدیق کر لیں گے اور اگر یہ درست پائی گئی تو متعلقہ متوفین کے خاندانوں کو وزیر اعلیٰ موہن یادو کے اعلان کے مطابق امدادی رقم فراہم کی جائے گی۔‘‘
Published: undefined
دوسری جانب ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری سنجے دوبے نے مقامی افسران کے ساتھ بھاگیرتھ پورہ علاقے کا دورہ کر کے صورت حال کا جائزہ لیا۔ افسران نے بتایا کہ پینے کے پانی کی سپلائی لائن کے لیکیج کو درست کرنے کے بعد، جمعرات کو بھاگیرتھ پورہ میں پانی فراہم کیا گیا اور گھروں سے پانی کے نمونے لے کر جانچ کے لیے بھیجے گئے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined