قومی خبریں

خلیجی ممالک کی جنگ میں دوبارہ شامل نہیں ہوگا امریکہ، ایران کے تازہ ترین حملے کے بعد امریکی اخبار کی رپورٹ میں اہم انکشاف

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ چھوٹے موٹے حملوں اور کشیدگی کو کچھ وقت تک برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ کے صدر&nbsp;ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)</p></div>

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ فی الحال ایران کے خلاف پھر سے بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنا نہیں چاہتے۔ حالانکہ انہوں نے اپنے دوست ممالک سے کہا ہے کہ اگر ایران کی کسی کارروائی میں امریکی فوجی مارے جاتے ہیں تو پھر سے وہ فوجی کارروائی شروع کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ چھوٹے موٹے حملوں اور کشیدگی کو کچھ وقت تک برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ وہ کئی ہفتوں یا مہینوں تک محدود تصادم کو برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن پورے خطے کو جنگ میں نہیں جھونکنا چاہتے۔ دوسری جانب یو اے ای سمیت خلیجی ممالک پر ایرانی حملے جاری ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اس ہفتے سب سے زیادہ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں اور کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس میں ایک شخص کی موت ہو گئی۔

Published: undefined

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو لے کر بھی کشیدگی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ بدھ (3 جون) کو وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے ڈونالڈ ٹرمپ سے پوچھا تھا کہ آپ جنگ بندی کو کیسے دیکھتے ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ اس خطے میں جنگ بندی کا مطلب مکمل طور پر امن نہیں ہوتا، بلکہ کم سطح پر حملے جاری رہتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حالات ابھی کنٹرول میں نہیں ہیں اور بات چیت کا راستہ کھلا ہوا ہے۔

Published: undefined

ڈونالڈ ٹرمپ نے بات چیت کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ بات چیت اچھی چل رہی ہے اور ممکن ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک کوئی معاہدہ ہو جائے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دونوں فریق کسی حل تک پہنچ سکتے ہیں۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے بڑے معاہدے کی امید کر رہا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو پھر سے مکمل طور پر کھولا جائے، ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کیا جائے اور اس کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بھی ختم کیا جائے۔

Published: undefined

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً 60 دنوں کی بات چیت کا خاکہ تیار کرنے کے لیے ایک ایم او یو بنانے پر کام چل رہا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کی نئی تجویز کو ٹھکرا دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتصادی ریلیف ملنے سے قبل ایران کو بڑے سمجھوتے کرنے ہوں گے اور مزید لچک دکھانی دینی ہوگی۔ جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ جوہری معاملے پر بات چیت تبھی آگے بڑھے گی جب امریکہ پہلے ایرانی اثاثوں پر عائد پابندی ہٹائے اور معاشی راحت فراہم کرے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined