قومی خبریں

آپریشن سندور کا اصل ہیرو رافیل نہیں ’سکھوئی-30‘ تھا، اس جنگی طیارہ سے خوف کھاتا ہے پاکستان!

ماہرین کی رپورٹ اور حالیہ انکشافات کے مطابق آپریشن سندور کا اصل ہیرو ’سکھوئی-30 ایم کے آئی‘ ثابت ہوا۔ یہ روس کا بھاری جنگی طیارہ ہے، جسے ہندوستان نے اپنی ضروریات کے مطابق اپگریڈ کیا ہے۔

جنگی طیارے، تصویر آئی اے این ایس
جنگی طیارے، تصویر آئی اے این ایس 

مئی 2025 میں ہندوستان نے پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ چلایا تھا۔ یہ قدم پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں اٹھایا گیا تھا۔ ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر براہ راست حملے کیے تھے۔ پورے آپریشن میں رافیل طیاروں کی بہت زیادہ بات ہوئی، کیونکہ یہ جدید فرانسیسی جنگی طیارے ہیں۔ حالانکہ ماہرین کی رپورٹس اور حالیہ انکشافات سے ظاہر ہوا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کا اصل ہیرو رافیل نہیں، ’سکھوئی-30 ایم کے آئی‘ تھا۔ یہ روس کا بھاری جنگی طیارہ ہے، جسے ہندوستان نے اپنی ضروریات کے مطابق اپگریڈ کیا ہے۔ آپریشن کے دوران اس کے خصوصی ہتھیاروں کی ترتیب نے یہ ظاہر کیا کہ جنگی طیارہ نہ صرف فضائی برتری فراہم کر سکتا ہے، بلکہ شدید حملے بھی کر سکتا ہے۔ درست حملوں کے لیے 2 ریمپیج ایئر لانچ بیلسٹک میزائل، 2 آسٹرا مارک-1 بی وی آر میزائل آسمان صاف کرنے کے لیے 2 آر-73 قریبی جنگ کے لیے تھا۔

قابل ذکر ہے کہ رافیل طیارے کو جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم، میٹیور بی وی آر میزائل اور اسکیلپ کروز میزائل کی وجہ سے زیادہ توجہ ملی۔ رافیل کو میڈیا اور عوامی گفتگو میں اسٹار بنایا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک نیا پلیٹ فارم ہے۔ کئی رپورٹس میں رافیل کے ذریعہ اہم مقامات پر حملے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپریشن سندور میں کئی پلیٹ فارم شامل تھے۔ ’میراج-2000‘ نے اسپائس بم کا استعمال کیا، ’سکھوئی-30 ایم کے آئی‘ نے ایئر ڈفینس کور کے ساتھ ساتھ ’اسٹینڈ آف اسٹرائک‘ بھی کیے۔ رافیل کی چمک نے سکھوئی کے کردار کو چھپا دیا، جبکہ سکھوئی کی تعداد ہندوستانی فضائی میں زیادہ ہے۔ یہ طویل عرصے سے ہندوستانی فضائیہ میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سکھوئی-30 ایم کے آئی کو بھاری جنگی طیارہ کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں زیادہ ہتھیار لے جانے کی قوت ہے اور لمبی رینج ہے۔ یہ کئی مشن ایک ساتھ انجام دیتا ہے۔

آپریشن سندور میں اس کی ’رپورٹیڈ لوڈ آؤٹ‘ نے ثابت کیا ہے۔ 2 ریمپج اے ایل بی ایم، یعنی ’ایئر لانچڈ بیلسٹک میزائل‘ سیدھے حملے کے لیے تھی۔ ریمپج اسرائیلی میزائل ہے، جس کی رینج تقریباً 250 کلو میٹر تک ہے۔ یہ  سپر سونک اسپیڈ میں اڑتی ہے۔ جی پی ایس/ آئی این ایس گائیڈنس سے ہدف پر سیدھا حملہ کرتی ہے۔ اسے ایئر بیس، رڈار، کمانڈ سینٹر جیسے ہائی ویلیو ٹارگیٹ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سکھوئی کے ذریعہ اسے لانچ کر کے ہندوستانی طیارہ دشمن کی ایئر ڈیفنس کے باہر سے حملہ کر سکتا تھا۔ اس کے علاوہ 2 استرمارک-1 بی وی آر ایئر ٹو ایئر میزائل آسمان صاف کرنے کے لیے تھی۔ استر ایک دیسی میزائل ہے، جسے ڈی آر ڈی او نے تیار کیا ہے۔ اس کی رینج 100 کلو میٹر سے زیادہ ہے۔ یہ فعال رڈار ہومنگ سے ہدف کو ٹریک کرتی ہے۔ دشمن کے جنگی طیاروں یا سپورٹ ایئر کرافٹ کو دور سے ہی تباہ کرنے میں کامیاب ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آپریشن سندور کے دوران اگر پاکستانی طیارہ انٹرسیپٹ کرنے آتے تو استر انہیں روک سکتی تھی۔ آخر میں 2 آر-73 میزائل قریبی نائف فائٹ یعنی ڈاگ فائٹ کے لیے آر-73 ’روسی انفراریڈ گائیڈڈ میزائل‘ ہے، جو بہت ہی مضبوط ہے۔ یہ بصری رینج کے اندر دشمن کو مار گرانے میں ماہر ہے۔ اگر کوئی قریبی مقابلہ ہوتا تو یہ میزائل حفاظتی دستے کا کام کرتی۔ یہ لوڈ آؤٹ سکھوئی کو پورا پیکیج بنا دیتا ہے۔ ایک ہی طیارہ ڈیپ اسٹرائک کر سکتا ہے۔ آسمان پر قابو رکھ سکتا ہے۔ قریبی جنگ بھی لڑ سکتا ہے۔ رافیل زیادہ تر اسٹرائک اور ایئر سپیریٹی پر فوکس کرتا ہے، لیکن سکھوئی بھاری پے لوڈ کی وجہ سے زیادہ میزائل لے جا سکتا ہے۔ ریپنج جیسی اسٹینڈ آف ویپن سے طیارہ کو دشمن کے علاقے میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ استر دیسی ہونے کی وجہ سے سپلائی کی فکر کم ہوتی ہے۔ آر-73 قابل اعتماد قریبی رینج آپشن ہے۔ آپریشن سندور میں سکھوئی نے نہ صرف ایئر کور دیا بلکہ ریپنج سے ٹھکانوں پر حملے بھی کیے۔ بعد میں ہندوستانی فضائیہ نے اس کی فوٹیج بھی جاری کی، جس میں ریپنج لانچ دکھایا گیا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ سکھوئی صرف پرانا پلیٹ فارم نہیں بلکہ اپگریڈیڈ ملٹی رول مشین ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔