قومی خبریں

’وزیر اعظم کو اسرائیل جانے کی ضرورت نہیں تھی‘، کانگریس نے موجودہ حالات کے لیے پی ایم مودی کو ٹھہرایا ذمہ دار

شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ ہمارا ایران کے ساتھ ایک پرانا اور اچھا رشتہ تھا، ایسے میں ان سنگین حالات میں وزیر اعظم کو اسرائیل جانے کی ضرورت نہیں تھی۔

شکتی سنگھ گوہل، تصویر آئی اے این ایس
شکتی سنگھ گوہل، تصویر آئی اے این ایس 

مشرق وسطیٰ میں پیدا کشیدہ حالات نے ہندوستان میں ایل پی جی کی قلت پیدا کر دی ہے۔ اس قلت نے عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی لیڈران میں بھی فکر پیدا کر دی ہے۔ یہ فکر آج راجیہ سبھا میں کانگریس رکن شکتی سنگھ گوہل کے ایک بیان میں بھی دیکھنے کو ملی۔ انھوں نے ایوان میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ملک میں ایل پی جی کی قلت ہو رہی ہے۔ ہمارا سپلائی چین ڈسٹرب ہو گیا ہے۔ یہ ایک ’مین میڈ کرائسس‘ (انسان کے ذریعہ پیدا کردہ بحران) ہے۔‘‘

Published: undefined

شکتی سنگھ گوہل نے یہ بیان ’اختصاصی بل 2026‘ پر پانی بات رکھتے ہوئے دیا۔ انھوں نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’جب ہمارا آئین بنا تو صاف کہا گیا تھا کہ ہندوستان کسی دیگر ملک کے معاملوں میں مداخلت نہیں کرے گا، لیکن آج یہ ساری باتیں فراموش کر دی گئی ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہمارا ایران کے ساتھ ایک پرانا اور اچھا رشتہ تھا، ایسے میں ان سنگین حالات میں وزیر اعظم کو اسرائیل جانے کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’آج ملک کو جن حالات کا سامنا ہے، وہ مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔‘‘

Published: undefined

دوسری طرف کیرالہ میں تہواروں کے مدنظر رسوئی گیس کی بڑھتی طلب کو پیش نظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے مرکز سے خصوصی انتظام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس تعلق سے ایک خط لکھا ہے، جس میں گزارش کی گئی ہے کہ 2 ماہ کے لیے ریاست کے ہر گھر کو ایک اضایف گھریلو ایل پی جی سلنڈر دینے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان، ایسٹر اور ویشو جیسے بڑے تہوار ایک ساتھ آنے سے گیس کی طلب تیزی سے بڑھنے والی ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ایل پی جی سلنڈر کی قلت پورے ملک میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کچھ ریاستوں میں حالات اتنے خراب ہیں کہ ریسٹورینٹ اور ہوٹلز بڑی تعداد میں بند ہو گئے ہیں۔ کچھ ہوٹلوں میں کھانے مہنگی قیمتوں میں فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ کچھ بڑے ہوٹلوں میں کھانے کے مینو ہی بدل دیے گئے ہیں۔ عام لوگوں کی حالت تو انتہائی دگرگوں ہے، کیونکہ کئی ریاستوں میں ایل پی جی کے لیے طویل قطاریں لگی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ حالات کچھ ایسے ہیں کہ لوگ آپس میں لڑنے جھگڑنے پر بھی آمادہ ہیں۔ حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حالات صرف گمراہ کن خبروں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں اس معاملہ میں برسراقتدار طبقہ سے سخت ناراض دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بحران والے حالات غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، اور اب حکومت جھوٹ کہہ رہی ہے کہ ایل پی جی کی قلت نہیں ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined