’ہندوستان میں پارلیمنٹ نہیں، آئین سب سے مقدم‘، سری لنکا میں بولے سابق سی جے آئی گوئی
سابق سی جے آئی بی آر گوئی نے کہا کہ ’’ہندوستانی آئینی نظام میں پارلیمنٹ کسی بھی لحاظ سے برتر نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی دوسرا ادارہ برتر ہے۔ آئین صرف اپنی بالادستی کو ہی تسلیم کرتا ہے۔‘‘

سابق چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) بی آر گوئی نے ہفتہ (9 مئی) کو سری لنکا میں کہا کہ آئینی جمہوریت اقتدار کے کسی ایک مرکز کے گرد مرکوز نہیں ہوتی اور ملک میں پارلیمنٹ نہیں بلکہ آئین سب سے مقدم ہے۔ کولمبو یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ 19ویں ’سُجاتا جے وردنے میموریل لیکچر‘ سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس گوئی نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ کی وجہ سے ایسے تنازعات کے حل کے لیے آئینی تحفظات اور اصولوں کا ارتقا ہوا ہے۔‘‘
سابق سی جے آئی نے کہا کہ پارلیمنٹ (مقننہ)، انتظامیہ (حکومت) اور عدلیہ نہیں، بلکہ آئین سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تینوں ادارے اپنے اختیارات آئین سے حاصل کرتے ہیں اور تینوں اس کی حدود کے پابند ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آئینی جمہوریت اقتدار کے کسی ایک مرکز کے گرد مرکوز نہیں ہوتی۔ یہ ایسا نظام نہیں ہے جس میں کوئی ایک ادارہ غیر محدود اختیارات کا استعمال کرتا ہو، بلکہ یہ ایک منصوبہ بند نظام ہے جس میں اختیارات کی تقسیم کی جاتی ہے اور حدود متعین کی جاتی ہیں۔
جسٹس بی آر گوئی نے کہا کہ ’’ہندوستانی آئینی نظام میں پارلیمنٹ کسی بھی لحاظ سے برتر نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی دوسرا ادارہ برتر ہے۔ آئین صرف اپنی بالادستی کو ہی تسلیم کرتا ہے۔ تمام ادارے اپنے اختیارات اسی سے حاصل کرتے ہیں اور سب اس کی حدود کے پابند ہیں۔‘‘
دستور ساز اسمبلی میں دی گئی ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس گوئی نے کہا کہ ہر ادارے کا اپنا دائرہ کار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں برتر ہے، لیکن صرف اس حد تک جس کی آئین اجازت دیتا ہے۔ سابق چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان تعلقات ہمیشہ ٹکراؤ والے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار یہ تعاون پر مبنی ہوتے ہیں، جہاں عدالتی جدت آئینی خامیوں کو اجاگر کرتی ہے اور پارلیمنٹ جمہوری ڈھانچے کے اندر ان اصولوں کو ادارہ جاتی شکل دے کر اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔
