پریس کانفرنس کے دوران کرنل روہت چودھری (ویڈیو گریب)
کانگریس ہیڈکوارٹر میں کرنل روہت چودھری اور کرنل ایس پی سنگھ نے پریس کانفرنس کر مودی حکومت کے نئے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔ دراصل مودی حکومت فوجیوں کی معذوری پنشن کو انکم ٹیکس کے دائرے میں لانے جا رہی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران کرنل چودھری نے کہا کہ ’’ملک کے سابق فوجیوں کا ایک وفد راہل گاندھی جی سے ملا تھا اور اپنی باتیں ان کے سامنے رکھی تھیں۔ جنرل ستبیر سنگھ جی نے بھی کہا ہے کہ ’ڈس ایبلٹی پنشن‘ (معذوری پنشن) کو ختم کرنا نیشنل سیکورٹی کا مسئلہ ہے۔ ہمارے جوان تمام تر فکروں کو درکنار کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں، اس لیے ہم سب چین کی نیند سو پاتے ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے سے جوانوں کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا۔ خود کو قوم پرست بتانے والی مودی حکومت آج فوجیوں کی معذوری پنشن کو انکم ٹیکس کے دائرے میں لانے کا کام کر رہی ہے۔‘‘
Published: undefined
کرنل روہت چودھری نے کہا کہ ’’جنرل سیم مانیکشا ہمارے فیلڈ مارشل رہے۔ برما مہم کے دوران انہیں پیٹ میں 9 گولیاں لگی تھی۔ مگر انہوں نے پورے جذبے کے ساتھ خدمات انجام دیں اور پاکستان کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے میں اپنا اہم تعاون دیا۔ ہمارے ملک کے بہت سے نوجوانوں نے معذوری کی حالت میں خدمات انجام دیں اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ فوج کے کئی افسران معذوری کے بعد بھی سروس میں برقرار رہے اور پورے احترام کے ساتھ ریٹائر ہوئے۔ ان افسران اور جوانوں کو سروس میں برقرار رکھنے کا مقصد فوج اور جوانوں کے درمیان جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔‘‘ کرنل روہت کے مطابق 1922 میں انکم ٹیکس ایکٹ بنا، جس میں کچھ کیٹیگریز میں ٹیکس کی چھوٹ دی گئی۔ ان میں جنگ کے دوران لگنے والی چوٹ، زخمی فوجیوں اور ڈیوٹی کے دوران پیش آنے والے حادثات جیسی کئی رعایتیں شامل تھیں۔ 1961 میں جب انکم ٹیکس ایکٹ دوبارہ بنا، تو اس میں بھی واضح کیا گیا کہ جوانوں کی معذوری کو ٹیکس سے باہر رکھا جائے گا۔ لیکن اب مودی حکومت معذوری پنشن کو انکم ٹیکس کے دائرے میں لانے جا رہی ہے۔‘‘
Published: undefined
کرنل روہت نے حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کے نئے انکم ٹیکس ایکٹ میں اس کی بدنیتی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے، جس میں وہ معذوری پنشن سے متعلق پرانی دفعات کو ختم کر رہی ہے۔ 1961 میں پنڈت نہرو کے دور میں فوجیوں کی معذوری پنشن کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ لیکن اب مودی حکومت کہہ رہی ہے کہ جو سپاہی جنگ میں زخمی ہونے کی وجہ سے ملازمت سے باہر ہیں، صرف ان کی معذوری پنشن کو ٹیکس کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا۔ جبکہ وہ سپاہی جو زخمی ہونے کے باوجود فوج میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی معذوری پنشن ٹیکس کے دائر سے باہر نہیں ہوگا۔ 2023 میں سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت فوجیوں کی معذوری پنشن کو انکم ٹیکس کے دائرے میں نہیں لا سکتی ہے، تو مودی حکومت 2023 میں ایک نئی معذوری پالیسی لے کر آئی اور کہا کہ آج سے معذوری پنشن کو ’امپیئرمنٹ ریلیف‘ کہا جائے گا۔ ایسے میں 2023 کے بعد سے حاضر سروس فوجیوں کو معذوری پنشن نہیں بلکہ ’امپیئرمنٹ ریلیف‘ دیا جائے گا۔ جیسے ہی حکومت نے نام بدلا، معذوری پنشن خود بخود انکم ٹیکس کے دائرے میں آ گئی اور اس طرح حکومت نے فوجیوں کے احترام کو پامال کرنے کا کام کیا ہے۔
Published: undefined
کرنل روہت نے زور دے کر کہا کہ ’’جب کوئی جوان جنگ پر جائے تو اسے یقین ہو کہ حکومت اس کے خاندان کے ساتھ کھڑی رہے گی، لیکن مودی حکومت کی نیت میں ہی کھوٹ ہے۔ حکومت اگر اپنے سرمایہ دار دوستوں کے لاکھوں کروڑوں روپے معاف کر سکتی ہے تو فوجیوں کے لیے 125-100 کروڑ بھی دیے جا سکتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’راہل گاندھی جی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالیں گے اور کانگریس کے برسر اقتدار آتے ہی معذوری پنشن کو ٹیکس کے دائرے سے باہر کیا جائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ نریندر مودی ’کمپرومائزڈ‘ ہیں، لیکن کانگریس کے لاکھوں کارکن اور ملک کی عوام اپنے فوجیوں کے مان و وقار کے لیے ضرور آواز اٹھائے گی۔‘‘
Published: undefined
کرنل روہت چودھری کے مطابق سوال یہ ہے کہ کسی فوجی کی معذوری پنشن یا اس کا معذوری کا الاؤنس اس کی آمدنی ہو سکتی ہے؟ اگر مودی حکومت یہ کہتی ہے کہ معذوری پنشن یا معذوری کا الاؤنس فوجی کی آمدنی ہے، تو اس سے زیادہ شرمناک بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ یہ فوجیوں کی توہین ہے اور ان کے وقار پر حملہ ہے۔ ہمارے ملک میں تقریباً 2 لاکھ معذور فوجی ہیں۔ تقریباً 50 لاکھ حاضر سروس، سابق فوجی اور جنگی بیوائیں ہیں۔ یعنی تقریباً 58 لاکھ لوگوں کی توہین کی جا رہی ہے۔ مودی حکومت محض سو-سوا سو کروڑ روپے کے خرچ کے لیے ملک کے فوجیوں کے عزت و وقار کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔
Published: undefined
1922 کے ضابطے کے تحت جو سپاہی معذوری کے باوجود اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی معذوری پنشن کو انکم ٹیکس سے باہر رکھا جائے۔
2023 میں جو نئی معذوری پالیسی لائی گئی ہے اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔
معذوری پنشن کے اندر کسی بھی قسم کی کوئی درجہ بندی نہیں ہونی چاہیے۔
Published: undefined
کرنل چودھری نے واضح طور پر کہا کہ ’’اگر نریندر مودی معذوری پنشن سے متعلق اپنا فیصلہ 28 فروری تک واپس نہیں لیتے ہیں تو کانگریس پارٹی ایک ملک گیر مہم کا آغاز کرے گی۔ ملک میں تقریباً سوا کروڑ دفاعی خاندان ہیں، اس لیے اگر ان خاندانوں کے وقار کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا تو انہیں ’ووٹ کی چوٹ‘ کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اگر 28 فروری تک یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو یکم مارچ کو جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے باوجود بھی اگر حکومت نے بات نہ مانی تو ہم ایک تاریخ طے کر کے پارلیمنٹ کے سیشن کے دوران دہلی میں فوجیوں کی ایک بڑی تحریک چلائیں گے اور حکومت سے جواب طلب کریں گے۔‘‘
Published: undefined
کرنل روہت چودھری کے علاوہ کرنل ایس پی سنگھ نے بھی مرکزی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’فوجیوں کی معذوری پنشن پر ٹیکس لگا دینا بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ فوج کسی بھی ملک کی آخری امید ہوتی ہے جن کا قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ امن و امان برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ ایسے میں فوج کے ساتھ اس طرح کا رویہ صحیح نہیں ہے۔ کیا مودی حکومت فوجیوں کے بجٹ میں کٹوتی کر کے معیشت کو مضبوط کرنا چاہتی ہے؟‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
بشکریہ: http://jrrsanskrituniversity.ac.in/