
علامتی تصویر
موجودہ دورمیں جہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے لوگی نیت خراب ہوجاتی ہے اور لالچ میں اپنا ایمان بدل لیتے ہیں وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو نیت اورایمانداری کے لیے ایسے کردار کامظاہرہ کرتے ہیں جو دوسروں کے لیے قابل تقلید بن جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہریانہ کے فرید آباد میں ہواہے جس پر لوگ واہ واہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ خبر کے مطابق ایک کباڑی تاجر’خان صاحب‘ نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک خاندان کو اس کے کھوئے ہوئے 100 گرام سونے کے زیورات واپس کر دیے۔
Published: undefined
اس واقعہ کی شروعات گزشتہ ماہ جنوری میں ہوئی تھی۔ فرید آباد کے رہنے والے اشوک شرما اپنے خاندان کے ساتھ کمبھ میلہ گھومنے جا رہے تھے۔ گھرخالی تھا اس لیے چوری کے ڈر سے انہوں نے ایک انوکھا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے اپنے گھر میں رکھا سونا (تقریباً 10 تولے) ایک پرانے ڈبے میں پیک کر کے کباڑ کی بوری میں چھپا دیا تاکہ کسی چور کی اس پر نظر نہ پڑے۔
Published: undefined
وقت گزرتا گیا اور گھروالے وہ ڈبہ بوری میں ہی بھول گئے۔ جب دیوالی کے لیے گھر کی صفائی کی گئی تو نادانستہ طور پر اس بوری کو کباڑ سمجھ کر خان صاحب کے اسکریپ گودام میں فروخت کردیا گیا۔ اشوک شرما اور ان کے خاندان کو اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہوا جب انہوں نے دیوالی کی پوجا کے دوران زیورات کی تلاش شروع کی۔ اس دوران ایک وقت ایسا آیا جب پورے خاندان کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی کیونکہ جس سونے کوانہوں نے چوروں سے بچانے کے لیے چھپایا تھا، اسے وہ خود ہی کباڑ سمجھ کر بیچ چکے تھے۔
Published: undefined
تقریباً 4 ماہ کی سخت تلاش اورامید ختم ہونے کے بعد کباڑ خانے کے مالک خان صاحب نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے گودام میں کباڑ کے ڈھیروں کے درمیان سے اس ڈبے کو تلاش کرلیا۔ خان صاحب نے معاملے کی اطلاع دی اوراے سی پی جیتیش ملہوترا کی موجودگی میں 15 لاکھ روپے کے زیورات کو اشوک شرما اور ان کے خاندان کے حوالے کر دیئے۔ خان صاحب کے اس عمل نے ثابت کر دیا کہ نیک دلی تمام خواہشات سے بالاتر ہوتی ہے۔ اے سی پی جیتیش ملہوترا نے بھی کباڑی خان صاحب کی اس ایمانداری کی تعریف کی اور اسے معاشرے کے لیے ترغیبی مثال قرار دیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined