قومی خبریں

فارم-6 پر الیکشن کمیشن کے متضاد دعوؤں کی جانچ ہونی چاہیے: ادت راج

ادت راج نے دلیل دی ہے کہ بیانات پہلے ہی عدالت کے سامنے ہیں، جانچ کے لیے کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں تینوں الیکشن کمشنروں کو فوری طور پر معطل کر دیا جانا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر ادت راج / ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس لیڈر ادت راج / ویڈیو گریب

 

کانگریس لیڈر ادت راج نے منگل کے روز الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے ان دعوؤں پر سوال اٹھائے ہیں، جو ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ’فارم 6‘ میں کی گئی تبدیلیوں سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ اس معاملے میں سخت کارروائی نہیں کرتا ہے، تو اس کی ساکھ، غیر جانب داری اور دیانت داری داؤ پر لگ جائے گی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ جے بی ماتھر نے بھی اس معاملے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ادت راج نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات چیت میں الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ’فارم 6‘ میں تبدیلی کے معاملے پر متضاد بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے تینوں الیکشن کمشنروں کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

ادت راج نے کہا کہ اگر آج سماعت ہوتی ہے تو یہ سپریم کورٹ کی ساکھ، غیر جانب داری اور دیانت داری کا سوال ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ’فارم 6‘ میں کی گئی تبدیلیوں پر سپریم کورٹ کی رضامندی حاصل تھی، لیکن بعد میں عدالت نے اس سے انکار کر دیا۔ وہیں کل الیکشن کمیشن نے جو حلف نامہ داخل کیا، اس میں کہا گیا کہ ’فارم 6‘ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ یہ دونوں بیانات ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ ادت راج نے دلیل دی ہے کہ یہ دونوں بیانات پہلے ہی عدالت کے سامنے ہیں، اس لیے اس معاملے کی جانچ کے لیے کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ ایسی صورتحال میں تینوں الیکشن کمشنروں کو فوری طور پر معطل کر دیا جانا چاہیے۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ تینوں کمشنروں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا اور فیصلہ اتفاق رائے سے لیا گیا تھا، تب بھی اس سے کسی غیر قانونی کام کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا آپ صرف اس لیے کسی کا قتل کر سکتے ہیں کہ سبھی لوگ اس پر متفق ہیں؟ یا کیا آپ قانون کے خلاف کام کر سکتے ہیں؟ ’فارم 6‘ میں تبدیلی کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ اس لیے اگر تینوں کمشنر متفق بھی رہے ہوں، تب بھی یہ کوئی جواز نہیں بن سکتا۔ الیکشن کمیشن کا جھوٹ پکڑا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ آج ہم دیکھیں گے کہ سپریم کورٹ کے ججوں میں کتنی طاقت ہے، وہ کتنے ایماندار ہیں اور کیا وہ کوئی سخت قدم اٹھاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اب مشکل حالات میں ہے۔ سپریم کورٹ منگل کے روز کئی عرضیوں پر سماعت کرے گا۔ ان عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کام کاج کو چیلنج کیا گیا ہے، ان کے خلاف خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ووٹر لسٹوں کی ملک گیر خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کرے گی، جس میں جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل ہوں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔