جموں و کشمیر میں کابینہ کی توسیع، 4 نئے وزراء نے حلف اٹھایا

کابینہ میں علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد کی شمولیت سے حکومت میں تجربے، علاقائی نمائندگی اور خواتین کی شمولیت کا نیا توازن دیکھنے کو ملے گا۔

<div class="paragraphs"><p>جموں و کشمیر میں کابینہ کی توسیع، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی کابینہ میں توسیع ہو گئی ہے۔ منگل (27 اکتوبر) کو سری نگر کے راج بھون میں 4 نئے وزرا نے عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔ ان میں علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، الطاف احمد اور شمیمہ فردوس شامل ہیں۔ نیشنل کانفرنس (این سی) نے تجربہ کار رہنماؤں کے ساتھ نئے چہروں کو بھی کابینہ میں جگہ دی ہے۔ اس توسیع کے ساتھ ہی جموں و کشمیر حکومت کی کابینہ اپنی مقررہ زیادہ سے زیادہ تعداد تک پہنچ گئی ہے۔

اس سے قبل عمر عبداللہ حکومت میں وزیر اعلیٰ سمیت کل 6 اراکین تھے۔ ان میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری، وزیر جاوید رانا، سکینہ اٹّو، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما شامل تھے۔ کابینہ میں توسیع سے قبل وزیر اعلیٰ نے موجودہ وزراء سے اپنے استعفے پیش کرنے کو کہا تھا، تاکہ کابینہ میں تبدیلی کی جا سکے۔ ان میں سے ستیش شرما کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا۔ 4 نئے وزراء کی شمولیت اور ستیش شرما کے کابینہ سے باہر ہونے کے بعد اب حکومت میں وزیر اعلیٰ سمیت کل 9 اراکین ہو گئے ہیں۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں 90 منتخب نشستیں ہیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں وزیر اعلیٰ سمیت وزارتی کونسل کے ارکان کی زیادہ سے زیادہ تعداد 9 ہو سکتی ہے۔


اس توسیع کے ساتھ عمر عبداللہ حکومت نے کابینہ کی مقررہ گنجائش پوری طرح استعمال کر لی ہے۔ دوسری جانب کانگریس نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونے تک حکومت میں شامل نہ ہونے کے اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ اب سب کی نظریں وزراء کے درمیان محکموں کی نئی تقسیم پر ہوں گی۔ کابینہ میں تبدیلی کے بعد وزیر اعلیٰ اور دیگر وزراء کے محکموں میں ردوبدل کے امکان کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد کی شمولیت سے حکومت میں تجربے، علاقائی نمائندگی اور خواتین کی شمولیت کا نیا توازن دیکھنے کو ملے گا۔ ان میں سے 2 رہنما پہلے بھی وزیر رہ چکے ہیں، جب کہ 2 اراکین اسمبلی کو پہلی بار وزارت ملی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے سینئرٹی، قانون سازی کے تجربے، علاقائی توازن اور خواتین کی نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے رہنماؤں کا انتخاب کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔