قومی خبریں

دہلی میں حکمراں اور اپوزیشن میں الزام تراشیوں کا دور جاری، بھاردواج نے جلایا اخبار تو بی جے پی نے کی تنقید

بی جے پی کے ترجمان پروین شنکر کپور نے کہا کہ اخبارجلانا ایک گھنونا فعل ہے، جس طرح پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت میڈیا بالخصوص ایک مخصوص میڈیا گروپ کے خلاف جبراور استحصال کا چکرچلا رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی دہلی یونٹ نے حزب اختلاف عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی ’خراب‘ میڈیا کوریج کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے ایک اخبار کو علامتی طور پر جلانے کی مذمت کی اور اسے انتشار پسند سوچ کی علامت قرار دیا۔  دہلی بی جے پی کے میڈیا انچارج پروین شنکر کپور نے پریس کانفرنس کے دوران اے اے پی کی دہلی یونٹ کے کنوینرسوربھ بھاردواج کے پریس کانفرنس کے دوران اخبار کو جلانے کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھاردواج نے میڈیا کو ڈرانے، پریس کی آزادی پر قدغن لگانے اور اپنی پارٹی کی انتشار پسند ذہنیت کو ظاہر کرنے کے لیے ایسا کیا۔

Published: undefined

کپور نے کہا کہ دہلی کی سیاسی تاریخ میں شاید پہلی بار کسی سیاسی پارٹی کے لیڈر نے اخبار کو محض اس لیے جلا یا کہ اس نے ان کے نقطہ نظر سے خبریں شائع نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اخبارجلانا ایک گھنونا فعل ہے، جس طرح پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت میڈیا بالخصوص ایک مخصوص میڈیا گروپ کے خلاف جبر کا چکر چلا رہی ہے۔

Published: undefined

کپور نے کہا کہ مسلسل 11 سال تک اروند کیجریوال کی حکومت نے میڈیا پر دباؤ ڈالا کہ بی جے پی کو نیوز کوریج میں جگہ نہ ملے اور آج اپوزیشن میں رہتے ہوئے اے اے پی لیڈر اخبار جلا کر میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کپور نے کہا کہ دہلی بی جے پی ’اے اے پی‘ لیڈر بھاردواج کے پریس کانفرنس کے دوران اخبارنذر آتش کرنے کی مذمت کرتی ہے اور ایسا کرکے انہوں نے یہ صاف کر دیا ہے کہ اگر وہ کبھی اقتدار میں واپس آئے تو وہ پھر 2013 سے 2024 جیسا میڈیا دبانے کا چکرچلائیں گے۔

Published: undefined

بی جے پی اور اے اے پی میں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے دوران پیر کو دہلی بی جے پی کے صدر وریندر سچدیوا نے اپوزیشن پر جنوبی دہلی کے ایک پرائیویٹ اسکول کے ساتھ دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا تھا جس نے مبینہ طور پر کچھ طلباء کے بورڈ امتحان کے داخلہ کارڈ روک لیے تھے۔ سچدیوا نے کہا کہ بھاردواج ساکیت کے اے پی جے اسکول گئے تھے تاکہ فیس میں اضافے کی وجہ سے کچھ طلباء کے بورڈ امتحان کے ایڈمٹ کارڈز کو روکے جانے کے خلاف احتجاج کیا جائے حالانکہ اس وقت کے وزرائے اعلیٰ اروند کیجریوال اور آتشی کی حکومتوں نے اسکول کو اپنی مدت کار کے دوران فیس بڑھانے کی اجازت دی تھی۔ سچدیوا نے کہا کہ اے اے پی لیڈران اپنا سیاسی موقف بدلنے میں اتنی جلدی کرتے ہیں کہ گرگٹ بھی اتنی تیزی سے اپنا رنگ نہیں بدل سکتا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined