راہل گاندھی، تصویر بشکریہ @INCIndia
مشرق وسطیٰ میں گزشتہ کئی دنوں سے جنگ جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل حملہ کیا جا رہا ہے، اور ایران بھی جوابی کارروائی میں تباہی مچا رہا ہے۔ کشیدہ ماحول کے درمیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے حکومت کی خاموشی پر پھر سے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایک غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حالات مزید خراب ہونے والے ہیں لیکن ہندوستان اب بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’دنیا ایک غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، آگے طوفانی سمندر ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ ہندوستان کی تیل سپلائی خطرے میں ہے، کیونکہ ہماری درآمدات کا 40 فیصد سے زیادہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ایل پی جی اور ایل این جی کے معاملے میں صورتحال اس سے بھی بدتر ہے۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’تنازعہ ہمارے دروازے تک پہنچ چکا ہے، اور بحر ہند میں ایک ایرانی جنگی جہاز ڈبو دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعظم نے کچھ نہیں کہا۔ ایسے نازک وقت میں ہمیں قیادت میں ایک مضبوط اور ثابت قدم ہاتھ کی ضرورت ہے۔ اس کے بجائے، ہندوستان کے پاس ایک ایسا ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم ہے جس نے ہماری اسٹریٹجک خودمختاری سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔‘‘
Published: undefined
اس سے قبل راہل گاندھی نے منگل (3 مارچ) کو بھی وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ ’سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں؟‘ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’بین الاقوامی قانون اور انسانی جانوں کے دفاع میں ہمیں صاف اور دو ٹوک انداز میں بات کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ ہماری خارجہ پالیسی خود مختاری اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے — اور اسے اسی تسلسل کے ساتھ برقرار رہنا چاہیے۔ وزیر اعظم مودی کو بولنا چاہیے۔ کیا وہ عالمی نظام کی تشکیل کے ایک طریقے کے طور پر کسی سربراہِ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں؟ اس وقت کی خاموشی ہندوستان کے عالمی وقار کو کمزور کرتی ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined