قومی خبریں

40 سال پرانے ’بوفورس کیس‘ کا باب پوری طرح ہوا بند، سپریم کورٹ نے آخری عرضی بھی خارج کر دی

31 مئی 2005 کو دہلی ہائی کورٹ نے ہندوجا برادران اور بوفورس کمپنی کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ عدالت نے سی بی آئی کی تفتیش پر سخت تنقید بھی کی تھی، جس پر تقریباً 250 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس

 

سپریم کورٹ نے بوفورس رشوت معاملہ سے متعلق آخری عرضی کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً 40 سال پرانے اس سرخیوں میں رہنے والے مقدمہ میں قانونی کارروائی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے ایڈووکیٹ اجے کے اگروال کی اپیل پر سماعت سے انکار کر دیا۔ اس اپیل میں دہلی ہائی کورٹ کے 2005 کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں ہندوجا برادران اور سویڈن کی اسلحہ ساز کمپنی ’اے بی بوفورس‘ کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔

عدالت میں عرضی گزار نے سری چند پی ہندوجا اور گوپی چند پی ہندوجا کے نام مقدمہ سے خارج کرنے کے لیے مزید وقت مانگا تھا، کیونکہ دونوں کا انتقال ہو چکا ہے، لیکن سپریم کورٹ نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو اب مزید طول نہیں دیا جا سکتا۔ بنچ نے واضح کیا کہ جب دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی تمام الزامات ختم کر چکی ہے اور سی بی آئی کی عرضی بھی پہلے مسترد ہو چکی ہے، تو اس مقدمہ کو مزید جاری رکھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔

قابل ذکر ہے کہ 31 مئی 2005 کو دہلی ہائی کورٹ نے ہندوجا برادران اور بوفورس کمپنی کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ اس وقت عدالت نے سی بی آئی کی تفتیش پر سخت تنقید بھی کی تھی، جس پر سرکاری خزانے سے تقریباً 250 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے نومبر 2018 میں سی بی آئی کی عرضی اس بنیاد پر مسترد کر دی تھی کہ ایجنسی نے عرضی دائر کرنے میں 4,522 دن کی تاخیر کی تھی اور اس کی کوئی مناسب وجہ پیش نہیں کی تھی۔

بوفورس معاملہ 24 مارچ 1986 کو حکومت ہند اور سویڈن کی کمپنی ’اے بی بوفورس‘ کے درمیان 1,437 کروڑ روپے کے دفاعی معاہدے سے متعلق تھا۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستانی فوج کے لیے 400 ہووٹزر توپیں خریدی جانی تھیں۔ 1987 میں سویڈن کے ایک ریڈیو نے دعویٰ کیا تھا کہ اس معاہدے کے بدلے ہندوستانی لیڈران اور دفاعی حکام کو رشوت دی گئی تھی۔ اس کے بعد یہ معاملہ ملک کے بڑے سیاسی تنازعات میں شامل ہو گیا تھا۔ اب سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ کے بعد بوفورس معاملے سے متعلق تمام قانونی راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔