
تلنگانہ کے محبوب نگر ضلع میں ہفتہ کو ایک المناک سڑک حادثے میں 3 لوگوں کی موت ہوگئی اور 11 دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب حیدرآباد سے تروپتی جا رہی تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی جی ایس آر ٹی سی) کی ایک بس اچانک بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر پار کرتے ہوئے سامنے سے آ رہے ایک کنٹینر لاری سے ٹکرا گئی۔ حادثے سے علاقے میں افراتفری مچ گئی، پولیس اور مقامی افراد نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں انجام دیں۔
Published: undefined
پولیس کے مطابق حادثہ موسا پیٹ ڈویژن کے کومیریڈی پلی کے قریب پیش آیا۔ بس مبینہ طور پر حیدرآباد سے تروپتی کی طرف جا رہی تھی۔ اچانک ڈرائیور سے بس بے قابو ہو گئی جس کی وجہ سے وہ ڈیوائیڈر پار کر کے مخالف سمت جا پہنچی اور سامنے سے آ رہے کنٹینر لاری سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ دونوں گاڑیاں بُری طرح تباہ ہوگئیں۔
Published: undefined
حادثے میں کنٹینر لاری کے ڈرائیور اور کلینر کی موقع پر ہی موت ہو گئی جب کہ بس ڈرائیور کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ پولیس نے بتایا کہ بس میں سوار 11 مسافروں کو فوری طور پر علاج کے لیے محبوب نگر کے سرکاری جنرل اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ حادثے کے بعد بس کے اندر پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں انجام دی گئیں۔ اندر پھنسے کئی مسافروں کو بس کے ایمرجنسی دروازے کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ مقامی باشندوں نے بھی امدادی کارروائیوں میں مدد کی، ایمبولینس کے پہنچنے تک زخمیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔
Published: undefined
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہوئے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیش شروع کردی۔ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ بس ڈرائیور سے اچانک بے قابو ہوجانے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ اس المناک حادثے سے پورے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑگئی۔ پولیس نے متوفیوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ہے اور لواحقین کو مطلع کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے زخمیوں کے بہترعلاج کے لیے اسپتال کو ضروری ہدایات دی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: یو این آئی، Pappi Sharma