’امریکہ عزت بچانے کا راستہ تلاش کر رہا‘، دوسرے دور کے امن مذاکرہ سے قبل ایران کا تلخ تبصرہ
ایرانی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ جنگ کے اس دلدل سے نکلنے کا ایک باوقار راستہ تلاش کر رہا ہے جس میں وہ پھنس گیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے مرحلہ کے امن مذاکرہ کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی حکام کو اپنی شرائط کے ساتھ ساتھ امریکی مطالبات پر اپنے اعتراضات سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ لیکن دونوں ہی ممالک کی طرف سے سخت بیان بازیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایران نے ایک ایسا بیان دے دیا ہے، جو امریکہ کے لیے پریشان کرنے والا ہے۔
’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اس جنگی دلدل سے نکلنے کے لیے ایک باوقار راستہ تلاش کر رہا ہے جس میں وہ پھنس چکا ہے۔ یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں ایرانی وزیر خارجہ پہلے سے موجود ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے دونوں ممالک (امریکہ اور پاکستان) ایرانی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کریں گے، لیکن ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ براہ راست مذاکرہ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ادھر امن مذاکرہ کے حوالے سے ترکیے نے بھی اہم بیان دیا ہے۔ وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے آپریشن میں حصہ لینے پر غور کر سکتا ہے۔ فیدان نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کے بعد ایک تکنیکی ٹیم کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیے اصولی طور پر ایسی کوششوں کو ایک انسانی فریضہ سمجھتے ہوئے مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
بہرحال، امن مذاکرہ کے دوسرے مرحلہ کے پیش نظر اسلام آباد میں ’لاک ڈاؤن‘ جیسی صورتحال ہے۔ ایک ہفتہ سے جاری پابندیوں نے عام زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ لاکھوں لوگوں کو مختصر فاصلے کا سفر کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ چیک پوسٹس، سڑکوں کے بند ہونے اور راستوں کی تبدیلی معمول بن چکی ہے۔ ہوائی اڈے اور سخت سیکورٹی والے ریڈ زون کی جانب جانے والی عموماً مصروف سڑکیں سنسان ہیں۔ آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اہم چوراہوں پر فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں، جبکہ ہوائی اڈے تک جانے والے مرکزی راستوں پر اضافی سیکورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔