قومی خبریں

کورونا کے نیا ویرینٹ پر انگلینڈ سے خوفناک رپورٹ! ہندوستان سمیت دنیا بھر میں تشویش

ہندوستان میں کورونا کے 594 نئے کیسز درج ہوئے ہیں، جس کے بعد ملک میں کورونا کے ایکٹو کیسز بڑھ کر 2669 ہو گئے ہیں۔ کیرالہ میں سب سے زیادہ کیس درج ہوئے ہیں

<div class="paragraphs"><p>کورونا وائرس / سوشل میڈیا</p></div>

کورونا وائرس / سوشل میڈیا

 

نئی دہلی: کورونا وائرس کے نئی ویرینٹ جے این.1 نے ہندوستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قسم کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں اس قسم کے 26 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی مریض اپنی جان بھی گنوا چکے ہیں۔

Published: undefined

ہندوستان میں رپورٹ ہونے والے 26 کیسز میں سے 19 گوا میں، 4 راجستھان میں اور کیرالہ، دہلی اور مہاراشٹر میں ایک ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔ گوا میں تمام 19 معاملات میں جے این.1 سب ویرینٹ کی تصدیق ہوئی ہے۔ جب مریضوں سے لیے گئے نمونوں کی جینوم سیکوینسنگ کی گئی تو اس ویرینٹ کی تصدیق کی ہے۔ گوا کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر پرشانت سوریاونشی نے کہا کہ جے این.1 ویرینٹ والے مریضوں میں ہلکی علامات تھیں اور اب وہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔

Published: undefined

کورونا کا یہ ویرینٹ راجستھان میں بھی دستک دے چکا ہے۔ جیسلمیر میں جے این.1 سب ویرینٹ کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جمعرات کو جے پور میں دو اور کیس رپورٹ ہوئے۔ ملک میں کورونا کے 594 نئے کیسز درج ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں کورونا کے ایکٹو کیسز بڑھ کر 2669 ہو گئے ہیں۔ کیرالہ میں سب سے زیادہ کیس درج ہوئے ہیں۔

Published: undefined

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ میں 24 میں سے ہر ایک شخص کورونا پازیٹیو ہے۔ لندن کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں جے این.1 ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

برطانیہ کی 'ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی' اور 'آفس آف نیشنل اسٹیٹسٹکس' کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد کورونا کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کورونا میں اضافے کی وجہ سردیوں کے موسم میں لوگوں کا ملنا جلنا بتایا گیا ہے۔ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ میں کووڈ کے پھیلاؤ کی شرح 4.2 فیصد ہے، جبکہ لندن میں یہ شرح 6.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined